تازہ ترین
کشمیریوں کے لیے نرم دل رکھنے والی ہندو صحافی انتہا پسندی کا شکار

کشمیریوں کے لیے نرم دل رکھنے والی ہندو صحافی انتہا پسندی کا شکار

نئی دہلی:(13 مارچ 2019)پلوامہ حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی کی اپنی جان پر بن گئی، انہیں سوشل میڈیا پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چھبیس سالہ بھارتی صحافی ساگریکا کسو کا تعلق جموں کے پنڈت گھرانے سے ہے۔ پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد جب اتر اکھنڈ، راجستھان اور ہریانہ میں انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کشمیری مسلمان نئی دہلی پہنچنا شروع ہوئے تو ساگریکا نے ان کی بھرپور مدد کی تھی۔

بھارتی صحافی نے سوشل میڈیا پر پیغام چھوڑا کہ اگر کسی کو پناہ درکار ہے تو بلا تکلف ان سے رابطہ کریں۔ ساگریکا کسو خود مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ اب یہی بات انتہا پسند اور متعصب بھارتیوں کے آگ لگا گئی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر ساگریکا کو سنیگن نتائج کے ساتھ ساتھ بے ہودہ کلمات سے بھی نوازانا شروع کردیا ہے۔

ساگریکا کسو نے اٹھارہ طالب علموں کی رہائش اور ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا، جبکہ کشمیریوں کی مدد کرنے پر خاتون صحافی ساگریکا کو بے ہودہ جملے اور تنقید سہنا پڑی۔خلاف توقع ایک ہندو خاتون کے مدد کرنے پر کشمیریوں نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top