تازہ ترین
شاعر عوام حبیب جالب کی 26ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

شاعر عوام حبیب جالب کی 26ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

لاہور:(12 مارچ 2019) انقلابی شاعر حبیب جالب کو رخصت ہوئے چھبیس سال بیت گئے، دور آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنیوالے حبیب جالب نے جو لکھا زبان زد عام ہوگیا۔

حبیب جالب کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928کو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جالب نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962میں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم ’دستور‘ کہی جس کا یہ مصرع ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔

رقص زنجیر پہن کے بھی کیا جاتا ہے
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی

بعد ازاں جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا ہے

ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم ’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو‘ ضیاءالحق کے دور میں ’ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا‘ اور بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کی نظم ’وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے‘ نے پورے ملک میں مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی۔

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا افسوں
چارە گر میں تمہیں کس طرح کہوں
تم نہیں چارە گر، کوئ مانے مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

جالب کو کئی مرتبہ جیل میں سزا بھی کاٹنی پڑی تاہم انہوں نے شاعری نہیں چھوڑی۔ ایک مرتبہ جیل میں ان سے کہا گیا کہ انہیں کاغذ اور قلم فراہم نہیں کیا جائے گا جس پر انہوں نے جواب دیا ‘میں آپ کے محافظوں کو اپنے شعر سنائوں گا اور وہ اسے دیگر افراد کو سنائیں گے اور اس طرح یہ لاہور تک پہنچ جائیں گے۔

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

جالب کو عوام کا شاعر کہنا غلط نہ ہوگا کیوں کہ دیگر اردو شاعروں کے برعکس جالب مقامی انداز اپنانے کی صلاحیت رکھتے تھے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالیتے تھے۔

یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

حبیب جالب کے شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سر مقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا عہد سزا، اس شہر خرابی میں، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سر دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔

حبیب جالب نے کئی معروف فلموں کے لئے بھی نغمہ نگاری کی جن میں مس 56، ماں بہو اور بیٹا، گھونگھٹ، زخمی، موسیقار، زمانہ، زرقا، خاموش رہو، کون کسی کا، یہ امن، قیدی، بھروسہ، العاصفہ، پرائی آگ، سیما، دو راستے، ناگ منی، سماج اور انسان شامل ہیں۔ کراچی پریس کلب نے انہیں اپنی اعزازی رکنیت پیش کرکے اپنے وقار میں اضافہ کیا تھا اور ان کی وفات کے بعد 2008میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا جو خود اس اعزاز کے لئے باعث اعزاز تھا۔

حبیب جالب کا انتقال 12 مارچ 1993کو لاہور میں ہوا اورانہیں قبرستان سبزہ زار اسکیم لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔

اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

Comments are closed.

Scroll To Top