تازہ ترین
پی ٹی آئی حکومت کا فنانس ایکٹ 2018 میں ترامیم لانے کافیصلہ

پی ٹی آئی حکومت کا فنانس ایکٹ 2018 میں ترامیم لانے کافیصلہ

اسلام آباد: (12ستمبر 2018) تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا وفاقی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسی لئے چودہ ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 19-2018 کے فنانس بل میں بڑی ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گزشتہ دور حکومت میں ٹیکس استثنیٰ کے معاملے بھی ترمیم میں لائے جائیں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ذرائع کا کہنا ہےکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ قرار دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت اس حد کو کم کرکے 8 لاکھ تک کرے گی۔ذرائع کے مطابق فنانس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے 800 ارب روپےکا اضافی ریونیو حاصل کیا جائےگا، حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپےکی کمی کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ ایف بی آر میں متعدد اقدامات سے 400 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز لگائے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی بل میں ترامیم کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے فنانس بل میں تجاویز پیش کرے گی جب کہ تمام درآمدی اشیا پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز دی جائے گی جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ 14 ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسی سلسلے میں طلب کیا گیا ہے، حکومت کی طرف سے اس اجلاس کے دوران ہی فنانس بل اسمبلی میں پیش کرنے کی توقع ہے۔

اس سے قبل آٹھ ستمبر کو ذرائع کے مطابق منی بجٹ میں ٹیکسوں کے حوالے سے سابق حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات میں اہم ترامیم کی جارہی ہے تاکہ ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو، سب سے زیادہ ردوبدل انکم ٹیکس کے حوالے سے کیا جارہا ہے اورتنخواہ دارملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد چار لاکھ سے بڑھاکر12 لاکھ کرنے سے متعلق بھی ترامیم لائی جارہی ہیں جبکہ سگریٹ پرٹیکس رعایت بھی واپس لیے جانے پر غور ہورہا ہے۔اس بارے میں ہیلتھ ریگولیشن کی وزارت کی جانب سے بھی یہ سفارش کی گئی ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے بھی ترامیم کے امکانات ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم سمیت دیگر ٹیکس قوانین میں ترامیم کیلیے سمری تیار کرلی ہے جوجلد وزارت خزانہ کو بھجوائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ان مجوزہ ترامیم کے ذریعے ایک کھرب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم کوئی نیاٹیکس لاگونہیں کیا جائے گا بلکہ گزشتہ حکومت کی جانب سے آخری بجٹ میں کیے جانے والے متعدد اقدامات کو واپس لیا جارہا ہے۔

ان میں ردوبدل کی جارہی ہے البتہ وزارت خزانہ،اقتصادی رابطہ کمیٹی یاوفاقی کابینہ سے حتمی منظوری لی جائے گی جس کے بعد فنانس ایکٹ میں ترامیم کیلئے ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

ٰیہ بھی پڑھیے

پنجاب کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ ڈیم فنڈز میں دینے کا اعلان

چینی کمپنی علی بابا کے شریک بانی جیک ما کا تعلیم کے فروغ کیلیے کام کرنے کا عزم

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top