تازہ ترین
سابق وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا

اسلام آباد: (22 جون 2018) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے اپنے وکیل طاہر محمود عباسی ایڈووکیٹ کے توسط سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو ایپلٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا، درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقہ این اے 53 اسلام آباد سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

یاد رہے کہ انیس جون کو این اے ترپن اسلام آباد کے ریٹرنگ افسر نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پی ٹی آئی کی منحرف رکن عائشہ گلالئی اور مہتاب عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے تھے، اس سے قبل عمران خان کے بھی این اے 53 سے کاغذات نامزدگی کو مسترد کیا گیا تھا۔ریٹرنگ افسر کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق این کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہ ہونے پر مسترد کیے گئے، کیونکہ چاروں امیدواروں نے اپنے حلقے میں مفاد عامہ کے کاموں کی تفصیلات نہیں دی تھیں۔

اس سے قبل ریٹرننگ افسر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے،ریٹرننگ افسر نے چیئرمین پی ٹی آئی پر عائد اعتراضات بھی مسترد کر دیئے، آر او کی جانب سے کہا ہے کہ عمران خان کا بیان حلقی نامکمل ہے جس پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ریٹرنگ افسر نے آج صبح این اے ترپن میں عمران خان کے کاغذات پر اعتراضات پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،اس سے قبل این اے ترپن سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کی سماعت ہوئی،جہاں بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا تین نام نہاد الزامات لگائے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، یہ اعتراضات نہیں الزامات ہیں، اعتراضات کی تیسری بنیاد ٹویٹ کو بنایا گیا، ہم نے تحریری جواب میں اعتراضات کو سات بار مسترد کر دیا۔وکیل پی ٹی آئی نے کہا پاکستان میں سائبر کرائم قانون موجود ہے، جو فوٹو کاپیاں لگائی گئیں وہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں، ماں نے اور نہ ہی بیٹی نے پاکستان آکر دعویٰ دائر کیا۔استغاثہ کے وکیل عبدالوہاب نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت میں کہا گیا یہ کوئی اور عمران خان ہے، ہم نے دستاویزات دی ہیں جس میں عمران خان سابق کرکٹ ٹیم کپتان لکھا ہے، ہم نے کسی پر ذاتی الزام نہیں لگائے، عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، عمران خان کے پوری دنیا میں اسکینڈل ہیں، پی ٹی آئی نے ہر سیاستدان کی پگڑی اچھالی ہے۔

جس پر بابر اعوان نے کہا آج کل کوئی بھی مشہور شخصیت کا جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ بنا کر ٹویٹ کرتا ہے، ثبوت کے طور پر پیش کاغذات تصدیق شدہ نہیں، یہ اخبار کے تراشے فوٹو اسٹیٹ کاپیاں ہیں، ان اخباروں کے تراشے کو کوئی نہیں جانتا، قانون شہادت میں بیرون ملک سے دستاویزات منگوانے، بھیجنے کا طریقہ کار ہے۔جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے وکیل احسن الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے کل جواب آیا،اس جواب میں ٹیرین کو بیٹی ماننے سے انکار نہیں کیا گیا ، آپ آج کہہ رہے ہیں یہ تو عمران خان نہیں ہیں جن کیخلاف امریکی عدالت کا فیصلہ ہے ۔اگر عمران خان نہیں تھے تو ان کا وکیل آج کیوں پیش ہوا؟۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص نے گناہ کبیرہ کیا، اس کی کیا سزا ہوگی، بابر اعوان نے سیتا وائٹ اور ٹیرین وائٹ کے عمران خان سے تعلق کو رد نہیں کیا، بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ذاتیات پر مت جائیں ، ہرزہ سرائی ان کا کلچر ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر عبدالوہاب بلوچ نے اعتراضات دائر کر رکھے ہیں، اس لیے عمران خان کو کاغذات کی جانچ پڑتال کے ساتھ اعتراضات کا جواب دینا ہوگا۔

حلقہ این اے 53 سے 63 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جن میں عمران خان، شاہد خاقان عباسی اور عائشہ گلالئی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر ظفر اللہ، مہتاب عباسی اور پی ٹی آئی کے الیاس مہربان بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کا ڈیٹا لیک ہونے پر نادرا سے وضاحت طلب کرلی

پی ٹی آئی کا نواز شریف اور وکلاء پر تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top