تازہ ترین
سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور کابل میں جاری

سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور کابل میں جاری

اسلام آباد:(15 دسمبر 2018) پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور کابل میں شروع ہوگیا ہے، مذاکرات کا مقصد افغانستان میں دیرپا امن کا حل تلاش کرنا ہے

تفصیلات کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں وزارت خارجہ کا وفد، جب کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اپنے اپنے وفود کی قیادت کررہے ہیں، تینوں وزرائے خارجہ کی افغان صدر سے ملاقات بھی ہوگی،سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی ہمراہ ان کے ہمراہ ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے مختصر گفت گو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں اور اسی دوستی، خوشحالی اور امن کا پیغام لے کر افغانستان جا رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین کا سہہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہوگا۔

افغان حکام کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں افغانستان کی سیاسی صورت حال اور افغان طالبان سے مفاہمتی عمل کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی، مذاکرات کے دوسرے دور میں خطے میں تعاون، جب کہ تیسرے دور میں سیکیورٹی تعاون پر بات ہوگی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کہ تینوں وزرائے خارجہ کے مابین سہہ فریقی مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے۔ اس سے قبل پہلے سہہ فریقی مذاکرات گزشتہ سال بیجنگ میں ہوئے تھے۔

دو روز قبل قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پور بارڈر کو کھول کر بھارت کو پیغام دے دیا ہے کہ ہم امن و استحکام چاہتے ہیں، کرتارپور بارڈر کا معاملہ ایک عرصے سے زیرغور تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کو عوامی دباؤ پر کرتارپور بارڈر کے معاملے پر یہ سب کرنا پڑا۔ بھارتی حکومت الیکشن کی وجہ سے بات چیت کے لیے تیار نہیں، امید ہے انتخابات کے بعد نئی حکومت پاکستان سے مذاکرات کرے گی اور اپنی مقبوضہ کشمیر پالیسی پر نظرثانی کرے گی۔

شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں خطاب میں کہنا تھا کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں تو اس کا سیاسی حل تلاش کرنا پڑے گا، افغان مہاجرین کی تین دہائیوں سے میزبانی کررہے ہیں، افغان مفاہمتی عمل میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن تمام تر ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔کے باوجود افغانستان قید پاکستانیوں کی تفصیلات نہیں دےرہا اور نہ ہی افغانستان وہاں پر قید پاکستانیوں پر الزامات سے متعلق بھی سفارت خانے کو آگاہ نہیں کیا جارہا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو خط میں گذارش کی کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

افغان عمل میں پاکستان اپنا حصہ تو ڈال رہا ہے مگرذمہ داری ہم پرنہیں ڈالی جاسکتی، مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ ہی یہ معاملہ حل ہوسکتا ہے، افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان بھی متاثر ہوتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کرتارپور راہداری کھول کر پیغام دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، شاہ محمود قریشی

Comments are closed.

Scroll To Top