تازہ ترین
افغانستان کو مستحکم پڑوسی دیکھنے کیلئے کوشاں ہیں، وزیرخارجہ

افغانستان کو مستحکم پڑوسی دیکھنے کیلئے کوشاں ہیں، وزیرخارجہ

اسلام آباد: (18 دسمبر 2018) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل میں عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے کو سراہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کیا، آئندہ بھی کریں گے،کیونکہ ہم افغانستان کو مستحکم پڑوسی دیکھنے کیلئے کوشاں ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مدد دی، دعا ہے یہ عمل افغانستان میں امن کے لیے مددگار ثابت ہو۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

وزیر اعظم نے کہا کہ دعا ہے کہ افغانستان میں تین دہائیوں سے جاری مشکلات ختم ہوجائیں، تین دہائیوں سے بہادر افغان عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان کی معاونت سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں افغان امن مذاکرات ختم ہوگئے جس میں طالبان سمیت فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شریک طالبان نمائندے اپنی شوریٰ سے بات کریں گے اور شوریٰ سے بات چیت کے بعد دوبارہ زلمےخلیل زاد سے ملاقات کریں گے،جبکہ زلمےخلیل زاد نے مذاکرات کی پیش رفت پر افغان حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی معاونت سے شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکا اور افغان طالبان کے علاوہ اماراتی اور سعودی حکام بھی حصہ تھے،امریکی معاون خصوصی زلمےخلیل زاد کی سربراہی میں افغانستان میں امن عمل پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق امریکی اور نیٹو فورسز کی افغانستان سے مرحلہ وار واپسی اور اس کے بعد افغانستان کے نظام حکومت اور سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کی گئی،افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے امریکا طالبان مذاکرات کرانا افغان امن عمل میں پاکستان کا عملی قدم ہے، پاکستانی تعاون فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔دوسری جانب افغانستان میں ترجمان امریکی سفارتخانے کا امریکی ریڈیو سروس وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا، پاکستانی حکومت کی طرف سے تعاون بڑھانے کے کسی بھی اقدام بشمول طالبان، افغان حکومت اور دیگر افغانوں کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔ان مذکرات میں پاکستان کا خاموش کردار ہے، پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت افغان مفاہمتی عمل کی بھرپور حامی ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نےایک روزپہلے مذاکرات پیرسےشروع ہونےکا بتایا تھا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا طالبان مذاکرات پیر سے شروع ہونے کا بتایا تھا تاہم مذاکرات کہاں ہوں گے یہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔Image result for ‫زلمی خلیلزاد‬‎

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط لکھا تھا جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے تعاون مانگا گیا تھا جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا ہم افغانستان میں امن لانے کیلئے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

افغان مسئلے پر امریکا نے ہمارا موقف تسلیم کیا،وزیراعظم

آرمی چیف سے امریکی وزیرخارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاق

Comments are closed.

Scroll To Top