تازہ ترین
بہادر آباد دھڑے کے خلاف فاروق ستار نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرلیا

بہادر آباد دھڑے کے خلاف فاروق ستار نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرلیا

کراچی: (13 فروری 2018) متحدہ پاکستان کے سربراہ نے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کرنے کی درخواست الیکشن کمیشن کو جمع کرادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فاروق ستار نے درخواست صوبائی الیکشن کمیشن میں جمع کرائی، جس میں ایک ہفتے سے رابطہ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس صورت حال کے بعد کیا گیا جب الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی عدم موجودگی میں خالد مقبول صدیقی کے دستخط پر ٹکٹ ایوارڈ کرنے کا اعلان کیا۔

صوبائی الیکشن کمشنر یوسف خٹک نے خالد مقبول صدیقی کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹ دینے کی منظوری دی تھی ، فاروق ستار نے کہاکہ میری اجازت کے بغیرکیسے پارٹی ٹکٹ دئیے جا رہے ہیں جس پر الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو اسکروٹنی کے وقت پہنچنا چاہئے تھا‘ ہم کتنا انتظار کرتے؟ الیکشن کمشنر کے جواب پر فاروق ستار نے کہا میرا موقف بھی سنا جانا چاہئے تھا‘ کاغذات نامزدگی کی منظوری پر مجھے تحفظات ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے فاروق ستار سے کہا کہ آپ بے شک عدالت سے رجوع کریں ہمارا مسئلہ پارٹی ٹکٹ کا ہے آپ یہاں سے جائیں مجھے بہت کام ہے ایم کیوایم کی لڑائی آپ جا کر اپنے دفاتر میں لڑیں۔اس سے قبل گزشتہ روز ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے پارٹی رجسٹریشن خالد مقبول کے نام کرانے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرائی تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان میں 2 دھڑوں کے قیام کے بعد انتخابی نشان اور پارٹی رجسٹریشن کیلئے کھینچا تانی میں مضبوط پوزیشن کے حامل بہادر آباد گروپ نے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کے ٹکٹ کے محاذ پر شکست دینے کے بعد فاروق ستار سے پارٹی کا انتخابی نشان پتنگ چھیننے کی تیاری کرلی ہے۔

الیکشن کمیشن میں پارٹی رجسٹریشن خالد مقبول صدیقی کے نام کرنے کیلئے درخواست جمع کرادی گئی ہے۔اس سے قبل گذشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا تھا کہ رابطہ کمیٹی نے مجھے نہیں بلکہ متحدہ کے ایک وفادار، محنتی اور جفاکش کارکن کو نکالا گیا۔ ثابت ہوگیا کہ مسئلہ سینیٹ کی سیٹ کا نہیں ہے، ساتھیوں کی سازش بے نقاب ہوگئی ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

رابطہ کمیٹی کی جانب سے کنونیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ رابطہ کمیٹی نے مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں ایک مطلق العنان سربراہ ہوں اور مجھے ہی انہوں نے نکال دیا۔ میں نے 5 اور 6 فروری کو پریس کانفرنس کے دوران جن خدشات کا اظہار کیا تھا، بالآخر میرے نادان ساتھیوں نے میری بات سچ کر دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھیوں نے آج مجھے پارٹی کی کنوینر شپ سے نکال کر اس بات کا ثبوت دے دیا کہ مسئلہ ایک فرد یا سینیٹ کی نشست کا نہیں بلکہ مسئلہ ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی پر قبضہ کرنے کا ہے۔ یہ سازش آج بے نقاب ہوگئی اور بلی تھیلے سے باہر آگئی۔

فاروق ستار نے کہا کہ اب سے کچھ دیر بعد کراچی میں کارکنوں کی اسمبلی منعقد ہو رہی ہے اور اس میں فیصلہ ہوگا کہ کارکن رابطہ کمیٹی کے ساتھ ہیں یا وہ میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ کارکنان کی اسمبلی میں ہی رابطہ کمیٹی کے الزامات کا جواب دوں گا۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران رابطہ کمیٹی پر شعری تبصرہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔

فاروق ستار نے مزید کہا کہ میرے خلاف سازشوں میں میرے اپنے ہی دوست ہیں۔ اگر میں نے اتنی غلطیاں کی تھیں تو سینیٹ کے ٹکٹوں کا انتظار ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آج نکالنے پر میں پھر بھی نہیں کہوں گا کہ مجھے کیوں نکالا تاہم یہ ضرور کہوں گا آج ایم کیو ایم پاکستان کے ایک ایک کارکن کو نکال دیا گیا۔

رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو برطرف کردیا

قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کی پارٹی رکنیت معطل کی، جبکہ انہیں بطور کنونیر عہدے سے بھی ہٹا دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کنور نوید جمیل نے کہا کہ فاروق ستار اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں اور تمام غلطیوں کی ذمہ داریاں بھی فاروق ستار پر عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر پارٹی کے آئین میں ترمیم کی اور بطور کنونیر انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعما ل بھی کیا۔ ان وجوہات کی بنا پر رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو بطو کنونیر فارغ کردیا ہے اور ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی ہے۔

میرے بغیر ہونے والے پارٹی اجلاس چیلنج ہوسکتے ہیں، فاروق ستار

دریں اثناء ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ میرے بغیر ہونے والے اجلاس چیلنج ہوسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ مجھے اطلاع دیئے بغیر پارٹی کی میٹنگ بلائی گئی تاہم میں ان تمام اجلاسوں کی تفصیلات طلب کرسکتا ہوں اور پارٹی آئین کی شق 7 سی سے خالد مقبول کو محدود کرسکتا ہوں۔میرے بغیر ہونے والے پارٹی اجلاس چیلنج ہوسکتے ہیں، فاروق ستارفاروق ستار نے کہا کہ کاغذات نامزدگی منظور کرنے پر مجھے تحفظات ہیں۔ پارٹی آئین کے تحت مجھے یہ پوچھنے کا اختیار ہے۔ ریٹرنگ افسر سے پوچھا کہ سربراہ کا خط کہاں ہے۔

واضح رہے کہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے جاری کردہ ٹکٹس پر الیکشن کمیشن نے رابطہ کمیٹی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

فاروق ستار کی رابطہ کمیٹی کو مفاہمت کی پیشکش

دو روز قبل ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ انہیں پیچھے ہٹنا پڑے یا رابطہ کمیٹی کو، ہر حال میں پارٹی کو بچانا ہے۔ ثابت کرنا ہے کہ ڈنڈے کے بغیر بھی معاملات چلائے جاسکتے ہیں۔ فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کامران ٹیسوری کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 4 نئے امیدواروں پر ہم اتفاق کرلیں تو وہ پہلی فلائٹ سے بہادرآباد چلے جائیں گے۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے اراکین عامر خان، کنور نوید جمیل اور میئر کراچی فاروق ستار کو منانے پی آئی بی پہنچے اور ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی۔ ملاقات ختم ہونے پر فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے اراکین کو خود دروازے تک چھوڑنے کے لئے آئے۔

ملاقات کے ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ 5 فروری کو اٹھا اور بدقسمتی سے باہر بھی آگیا جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی۔ 7 فروری کو جو بات طے کی تھی اس پر اب بھی قائم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی کہا کہ اگر کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تو 4 سیٹوں کو لات مارتے ہیں اور پارٹی کو بچالیتے ہیں۔ اگر چار نئے امیدواروں پر ہم اتفاق کرلیں تو میں پہلی فلائٹ پکڑوں گا اور پی آئی بی سے بہادرآباد چلا جائوں گا۔ فاروق ستار اپنی پریس کانفرنس میں چٹکلے بھی چھوڑتے نظر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے منی بدنام تھی اب منا بدنام ہوگیا۔ فاروق ستار کی ایک موقع پر زبان بھی پھسل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری نے مجھے بلینک چیک دیا تھا ساتھیوں کے اشارے پر فاروق ستار نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ بلینک چیک نہیں بلینک پیپر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عامر خان اور فیصل سبزواری کو دیکھ کر مجھے بھی رونا آیا۔ میں ہنس نہیں رہا میں اندر سے رو رہا ہوں۔

اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کل جنرل ورکرز اجلاس کے ایم سی اسٹیڈیم پی آئی بی گرائونڈ میں 3 بجے طلب کرلیا جس میں پورے سندھ اور کراچی سے کارکنان آئیں گے اور اسکروٹنی کی جائے گی اور ٹکٹ بھی دیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

آج ایم کیو ایم حقیقی ٹو کی بنیاد رکھی گئی ہے، فاروق ستار

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے 5 ارکان نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top