تازہ ترین
پاکستانی تاریخ کا المناک دن سولہ دسمبر انیس سو اکہتر

پاکستانی تاریخ کا المناک دن سولہ دسمبر انیس سو اکہتر

اسلام آباد: (16 دسمبر 2018) سولہ دسمبر انیس سو اکہتر۔ پاکستان کی تاریخ کا المناک دن۔ جب مشرقی پاکستان بنگلادیش میں تبدیل ہوا۔ پاکستان کی ترانوے ہزار فوج اورسویلین نے بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر کیا جبکہ بیس دسمبر کو جنرل یحییٰ خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

وہ ڈھاکہ جہاں انیس سوچھ میں مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی تھی، انیس سوسینتالیس میں پاکستان کے قیام کا سبب بنی۔ چوبیس سال بعد سولہ دسمبرانیس سو اکہتر کو ڈھاکہ پاکستان سے الگ ہوگیا۔ پاکستان کے ترانوے ہزار فوجی اور سویلین جنگی قیدی بنالئے گئے جن میں بیس ہزارخواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ رمنا ریس گراؤنڈ میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب ہوئی۔بھارت نے مغربی محاذ پر پاکستان کے پانچ ہزار سات سو پچانوے میل رقبہ پرقبضہ کر لیا تھا جبکہ پاکستان کے قبضہ میں بمشکل ایک سو دس مربع میل بھارتی رقبہ تھا۔ چار دن بعد پاکستان کے کمانڈر انچیف یحییٰ خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے، ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے، نوے ہزار سے زائد پاکستان کے جنگی قیدیوں کی رہائی کیلئے جون انیس سوبہترمیں شملہ مذاکرات ہوئے۔

بھٹو نے مذاکرات میں زور دیا کہ جنگی جرائم میں ملوث پاکستانی فوجی افسروں کے ٹرائل سے مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا۔ دو جولائی انیس سو بہتر کو دونوں وزرائے اعظم نے شملہ معاہدے پر دستخط کر دیئے اورپندرہ اپریل انیس سوچوہترتک تمام جنگی قیدیوں کی واپسی کی راہ ہموارہوگئی۔

اسی دورمیں بننے والے حمود الرحمان کمیشن نے ایک رپورٹ تیار کی جوتاحال سامنے نہ آسکی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کمیشن کی رپورٹ کے اجرا کا مطالبہ کرتی رہیں لیکن خود اقتدارمیں آنے کے باوجود ایسا نہ کرسکیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top