تازہ ترین
اومنی گروپ کی چینی کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم

اومنی گروپ کی چینی کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم

اسلام آباد:(05دسمبر،2018) سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انور مجید کے داماد کی متفرق درخواست مسترد کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جعلی بینک اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی،دوران سماعت وکیل نیشنل بینک نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ بینکوں اوراومنی گروپ نے قرضوں پرسیٹلمنٹ معاہدے پیش کرنے ہیں اومنی گروپ نے 2 لاکھ 25 ہزارچینی کے تھیلے بینک کے پاس رہن رکھے تھے،چینی کے تھیلے غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے،مجرمانہ فعل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نیشنل بینک نے سمجھوتہ نہیں کرنا تو قانونی چارہ جوئی کرے ،فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں، لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کاروائی کاغذی تھی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بینک کے جو لوگ ملوث ہیں ان کےخلاف بھی پرچہ درج کرائیں۔

دوران سماعت نعیم بخاری نے کہا کہ چھ ارب روپے اومنی گروپ کے ذمے واجب الاداہیں،ہم پرسینیٹ سے بھی دباؤآیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے قرضہ اور گارنٹی کے معاملے میں جو لوگ ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہو گی۔اس معاملے کی تفتیش ایف آئی اے کرے گی۔اس موقع پراومنی گروپ کےوکیل شاہد حامد نے کہا کہ اومنی گروپ کسی کا نادہندہ نہیں ہے، اومنی گروپ کی شوگر ملیں بند ہونے سے کسان پریشان ہیں،جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ شوگر ملز کو عدالت ٹیک اوور کرے گی ہم کسان کا نقصان نہیں ہونے دیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ شاہد صاحب شوگر ملز پر آپکو بیٹھا دیں گے۔

اس موقع پر وکیل شاہد حامد نے عدالت سے کل تک کیس کو ملتوی کرنے کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل تک نہیں آج رات تک بیٹھے ہیں، آپ نے مقدمہ میں کتنی فیس لی اگر بتا دوں تو لوگ حیران ہوجائینگے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نیشنل بینک نے سمجھوتہ نہیں کرنا تو قانونی چارہ جوئی کرے ،فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں، لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کاروائی کاغذی تھی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بینک کے جو لوگ ملوث ہیں ان کےخلاف بھی پرچہ درج کرائیں۔

اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ بینک حکام اومنی گروپ کے لوگوں کو دھمکاتے ہیں،جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک افسران کودھمکیاں مل رہی ہیں،اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جن جن کودھمکیاں مل رہی ہیں ہمیں پتاہے،میں آپ کو آوازسنادوں گا کہ کیسے جیل میں بیٹھ کرہدایات دی جارہی ہیں،ریکارڈنگ کی بنیاد پر پرچے بھی درج کرا سکتے ہیں،کسی کو دھمکیاں مل رہی ہیں توقانونی چارہ جوئی کرے، مزید سماعت کل شام کو چیمبر میں ہوگی

اس موقع پر اومنی گروپ کے وکیل نے عبدالغنی مجید سے ملاقات کی استدعا کی ، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے عبد الغنی مجید اور حسین لوائی کے وکلاء کو ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ چوبیس نومبر کو سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار انور مجید اور عبدالغنی مجید کو اسلام آباد منتقل کرنے کیلئے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی دونوں سے اسپتال اور جیل میں تفتیش کرے۔ سپریم کورٹ نے مقدمے کے دو گواہوں کے غائب ہوجانے کی درخواست خارج کردی۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 17 نومبر کو ہونے والی سماعت کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اومنی گروپ کے وکیل نے بینکوں کیساتھ سیٹلمنٹ کے پروپوزل عدالت میں جمع کرائے۔ کیس کی آئندہ سماعت 5 دسمبر کو ہوگی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے وکیل نے ملزم سے کراچی میں ہی تفتیش کی استدعا کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے انور مجید، اے جی مجید اور حسین لوائی کو اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید کو پمز اسپتال، اے جی مجید اور حسین لوائی کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے، یہ لوگ بہت بااثر ہیں کراچی میں ان کا اقتدار ہے، انہیں اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ آزادانہ تفتیش ہو سکے، مکمل تفتیش کے بعد دیکھا جائے گا کہ انہیں واپس بھجوایا جائے۔انور مجید کے وکیل کی جانب سے کراچی میں تفتیش کی استدعا پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اصرار سے ہم زیادہ غیرمطمئن ہو رہے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی وجہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر انور مجید عام جہاز پر نہیں آسکتے تو ائر ایمبولینس میں لے آئیں۔

دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ انورمجید انکوائری میں تعاون نہیں کر رہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب جے آئی ٹی کو بااختیار بنا دیا گیا ہے، 10 دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں، جےآئی ٹی اس لیے بنائی تاکہ جان سکیں کہ کک بیکس کے پیسے کو قانونی کیسے بنایاگیا۔انور مجید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ نے 1.2 بلین سلک بینک، 1.8 بلین سمٹ بینک، 4.98 بلین نیشنل بینک اور 4.6 بلین سندھ بینک کو ادا کرنے ہیں، یہ ادائیگیاں پراپرٹی کی صورت میں کی جائیں گی،جسٹس ثاقب نثار نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ مقررہ تاریخ تک ادائیگیاں نہ ہوئیں تو قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس موقع پر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ مارکیٹ ویلیو سے زیادہ اپنی پراپرٹی کا ریٹ بتا رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جائیدادوں کی قیمتوں سے متعلق تمام بینکوں کے سربراہان حلف نامے جمع کرائیں،دورانِ سماعت لاپتا افراد کے وکیل نے بھی عدالت کے روبرو بتایا کہ کیس کے دو گواہان لاپتہ ہیں ان کو بازیاب کرایا جائے،چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ یا ان کے باس کو بولیں وہ بازیاب کرائیں، سمجھ رہے ہیں نہ، میں کیا کہ رہا ہوں۔واضح رہے کہ بارہ نومبر کو منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی سربراہ نے حتمی رپورٹ دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگا تھا،جبکہ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے صاحبزادے نمر مجید کو بھی گرفتار کرکے شامل تفتیش کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

 تیس اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کو معلومات ملنا شروع ہوگئی،اب رپورٹ کا انتظار ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ کے 11 ارب 19 کروڑ کے اثاثے بینکوں کے پاس ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ معلومات منطقی انجام تک پہنچانی ہیں۔ اس وقت بینک کا نقصان ہورہا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اومنی گروپ کے وکیل خواجہ نوید نے عدالت کو بتایا اومنی گروپ کے پیسے نجی بینک کے اکاؤنٹ میں منجمد ہیں۔ عدالت منجمد اکاؤنٹس سے بینکوں کو ادائیگی کی اجازت دے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نمرمجید عدالت میں ہیں؟۔ نمرمجید کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ نمبرمجید بینکوں کے ساتھ معاملات طے کر رہے ہیں۔

عدالت نے نوازشریف کو فریق بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بیگانی شادی میں عبداللہ کو دیوانہ نہیں بننے دیں گے۔

اپنے ریمارکس میں عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے پاس شواہد ہیں تو جے آئی ٹی کو فراہم کردے۔ آٹھ ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ عدالت ایمبولینس کا پیچھا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ عدالت نے ازخود نوٹس لیا تھا کسی کو فریق نہیں بنائیں گے۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس کا انور مجید سمیت اہم ملزمان کو اسلام آباد منتقلی کا حکم

انور مجید کے بیٹے نمر مجید کو رہا کر دیا گیا

 

Comments are closed.

Scroll To Top