تازہ ترین
انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 33ویں برسی منائی جارہی ہے

انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 33ویں برسی منائی جارہی ہے

ویب ڈیسک :(20 نومبر 2017) ترقی پسند نظریات اور انقلاب کو اشعار کی خوبصورت لڑی میں پرو کر پیش کرنے والے شاعر فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے تینتیس برس بیت گئے ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

فیض احمد فیض تیرہ فروری انیس سو گیارہ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے، وہ بلاشبہ اس عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ایسے شاعر اور ایسے انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے ساری زندگی ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ہمیشہ شاعر کا منصب بھی نبھایا۔ وہ اردو شاعری کی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ان کی فکر انقلابی تھی، مگر ان کا لہجہ غنائی تھا۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اور عاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ اردو شاعری میں ایک نئی جمالیاتی شان پیدا ہوگئی اور ایک نئی طرز فغاں کی بنیاد پڑی جو انہی سے منسوب ہوگئی۔

انہوں نے زندگی کے بہترین ماہ و سال قیدو بند میں گزارے، لیکن ان کی سوچ پر پہرے نہ لگ پائے۔فیض انگریزی، اردو اور پنجابی کے ساتھ فارسی اور عربی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔

فیض نے اردو کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا اور انہی کی بدولت اردو شاعری سربلند ہوئی۔ فیض نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کسی ایک خطے یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے ہوتی ہے۔

نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور مرے دل مرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں اور سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی انہوں نے میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور مہ و سال آشنائی جیسی کتابیں یادگار چھوڑیں۔

فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ءکولاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے ان کے انتقال کے بعد انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top