تازہ ترین
عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواستیں مسترد

عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد: (25 جون 2018) الیکشن کمیشن نے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں عام انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی جس میں متحدہ قبائل پارٹی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، مگر ملک میں الیکشن ایک ہی دن کرائے جائیں۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایک دن الیکشن کرانےکا مقصد یہ ہے کہ کوئی اثر انداز نہ ہو لیکن ضمنی انتخاب کی مثالیں موجودہیں جس کی حکومت ہو وہی ضمنی انتخاب جیتتی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اگر بغیر بحث کے آئینی ترمیم ہوگی تو ایسے ہی مسائل پیدا ہوں گے، فاٹا والوں کا ایک آئینی حق ہےکہ وہ اپنے نمائندوں کومنتخب کریں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فاٹا میں نئی حلقہ بندیاں ہوئیں ہیں، فاٹا اور اسلام آباد کی ایک حلقہ بندی کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس موقع پر الیکشن کمیشن کے پی کے مسز ارشاد قیصر نے کہا کہ فاٹا کی قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب ہونے جارہا ہے،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعدعام انتخابات ملتوی کرنے کی تینوں درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قبائل پارٹی نے فاٹا میں بروقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وزیرا عظم ہاؤ س کے سامنے دھرنا دینگے۔اسلام آباد میں متحدہ قبائل پارٹی کے وائس چیئرمین حبیب نور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کررہے ہیں، ہم آج اپنے حقوق کے لئے پر امن دھرنا دے رہے ہیں۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

حبیب نور کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نگران حکومت کی نگرانی میں فاٹا میں صوبائی نشستوں کے انتخابات ہوں، کیونکہ ملک میں عام انتخابات 25جولائی کو ہوںگے لیکن فاٹا میں صوبائی صوبائی نشستوں پر الیکشن کا کوئی پلان نہیں بنایا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں متحدہ قبائل پارٹی کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم چیف جسٹس سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ دھرنے کے شرکاء سے خود ملاقات کریں اور ہمارے تحفظات سنیں، ہمارے دھرنے کا آج ساتواں دن ہے، مگرکوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا بڑھتا جائے گا ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا میں 25جولائی کو ہی صوبائی نشستوں کے لئے الیکشن کرائیں جائیں۔دوسری جانب نگراں وزیراطلاعات نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کاعمل مکمل کرلیاجائے گا،ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام پرعملدرآمد کیلئے قائم کمیٹی منصوبے پرتیزی سے کام کررہی ہے،پورے فاٹا میں انتظامی ڈھانچہ بڑھایا جارہا ہے اور دیہی مراکز اور انتظامی یونٹوں کا قیام کا عمل جاری ہے۔

نگراں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فاٹا سے متعلق معاملات کا مکمل جائزہ لیاجارہا ہے،سید علی ظفر نے کہاکہ نگران حکومت اگلی منتخب حکومت کیلئے مختلف شعبوں میں جامع رہنمااصول فراہم کرے گی۔ایک سوال پروفاقی وزیر نے کہاکہ انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر بیوروکریسی میں ردوبدل کیاگیا ہے،وزارت داخلہ پرامن انتخابات کے انعقاد اورانتخابات کیلئے جامع سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹیں وصول کررہی ہے اور ان رپورٹوں کی بنیاد پر فیصلے کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے حوالے سے اعلی عدلیہ نے فیصلے کیے ہیں، اگر کسی شخص کو ای سی ایل پر ڈالنا ہے تو اس کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہوتا ہے۔

نگراں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ محمد نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے نیب کی درخواست موصول ہوچکی ہے،قانون و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم نے فاٹا انضمام کے معاملات جلد حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی

فاٹا اور پاٹا کیلئے 5 سال تک ٹیکس استثنیٰ اور مراعات کی منظوری

Comments are closed.

Scroll To Top