تازہ ترین
ملک کی 13 جامعات میں  ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی عائد

ملک کی 13 جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی عائد

اسلام آباد: (19 مارچ 2018)ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ملک کی تیرہ جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی عائد کردی ہے، پابندی فاصلاتی تعلیمی پروگرام کی شرائط پوری نہ کرنے پر لگائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے یہ ان پروگرام پر پابندی فاصلاتی تعلیمی پروگرام کی شرائط پوری نہ کرنے پر لگائی گئی،اس اقدام سے تقریباً 4 ہزار طلباء و طالبات متاثر ہوں گے، تاہم ایچ ای سی کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی پروگرامز میں انرول طالب علم اپنی تعلیم کے نقصان کے بغیر کسی دوسری جامعہ میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ایچ ای سی کی جانب سے جن جامعات پر اس پابندی کا اطلاق ہوگا ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ورچوئل کیمپس کومسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد، یونیورسٹی آف پشاور، گومل یویورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف فیصل آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان، ، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو اور یونیورسٹی آف کوئٹہ بلوچستان شامل ہیں۔

دوسری جانب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ یہ اقدام طالب علموں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ جامعات تھیں جو قانونی طور فاصلاتی تعلیمی پروگرام کی پشکش نہیں کر رہی تھی اور ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرائیویٹ پروگرام ختم کرکے ان طلباء کو رجسٹرڈ کیا جائے اور انہیں انڈر گریجویٹ کی سطح پر ڈگری پروگرام میں شامل کیا جائے لیکن ان جامعات نے اس پروگرام میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کو بھی شامل کرلیا جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی متعدد جامعات کا دورہ کیا گیا تھا اور ایچ ای سی کی ضروریات پر پورا نہ اترنے والی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بند کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹر مختیار نے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگرام کرانے کے لیے اس کی فکیلٹی کا ہونا ضروری ہے اور انرولمنٹ کے لیے بھی ایک حد مقرر ہے، اس کے ساتھ جس فکیلٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی نہیں ہے وہ جامعہ  کیسے کرواسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایچ ای سی نے 20 ہزار ڈگری پروگرامز پر مشتمل ڈیٹا بیس تیار کرلیا

ہائیرایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹی آف انجنئیرنگ مردان کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دیدیا

Comments are closed.

Scroll To Top