تازہ ترین
جہانگیر ترین تاحیات نا اہل قرار

جہانگیر ترین تاحیات نا اہل قرار

اسلام آباد: (15 دسمبر 2017) سپریم کورٹ نے ان سائیڈ ٹریڈنگ کا اعتراف کرنے پر جہانگیر ترین کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان سائیڈ ٹریڈنگ کا اعتراف کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سماعت کے دوران جہانگیر ترین نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیرترین نے لندن میں ہائڈ ہاوس چھپایا ، جس کے باعث وہ صادق اور امین نہیں رہے ، اسی بنا پر انہیں تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرمز استعمال کیں اور صحیح جواب نہ دینے پر انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حنیف عباسی کی درخواست کو مسترد کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جمائمہ خان نے بنی گالہ اراضی کے لئے رقم بھیجی جبکہ عمران خان نے بنی گالہ اراضی خاندان کے لئے خریدی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بنی گالہ کی جائیداد عمران خان کو جمائمہ خان سے تحفہ کے طور پر ملی تھی، اس میں کوئی بد دیانتی ظاہر نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈھائی سو صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان نیازی سروسز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحریک انصاف پر غیرملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تاہم درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی گذشتہ پانچ سال تک کی چھان بین کرسکتا ہے۔فیصلے سے قبل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تاخیر پر معذرت چاہتا ہوں ایک صفحے پر غلطی تھی جس کے باعث ڈھائی سو صفحات پڑھنے پڑے، تمام فریقین سے کہتا ہوں کہ فیصلے کو تحمل سے سنا جائے۔

Posted by Abbtakk on Friday, December 15, 2017

یاد رہے کہ عدالت میں کیس چار سو پانچ دن چلا پچاس سماعتیں ہوئیں ، وکلاء نے سو گھنٹوں سے زائد دلائل دیئے ، جبکہ عدالت میں سات ہزار صفحات پر مشتمل مواد پیش کیا گیا۔

حنیف عباسی کی جانب سے سینئروکیل اکرم شیخ نے دلائل دئیے جبکہ عمران خان کی وکالت نعیم بخاری اور جہانگیر ترین کی وکالت سکندر بشیر نے کی ۔

درخواست گزار نے عمران خان پر لندن فلیٹ اور آف شور کمپنی نیازی سروس لمیٹیڈ اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا ۔جبکہ جہانگیر ترین پر قرضے ادا نہ کرنے ، انسائیڈر ٹریڈنگ کرنے ، زرعی زمینوں کی آمدن چھپانے اور ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا۔

درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل نے کیس کا موازنہ پاناما کیس سے کرتے ہوئے آرٹیکل باسٹھ ، ترسیٹھ کے تحت عمران خان کی نااہلی کی استدعا کی۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے ایف بی آر اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ڈیکلریشن میں بھی آف شور کمپنیوں کا ذکر نہیں۔

پاناما کیس میں قطری شہزادے کے خط کے چرچے ہوئےتو عمران خان کیس میں جمائمہ کے خطوط کے تذکرے ہوتے رہے ،درخواست گزار کے وکلاء کے الزامات کو عمران خان اور جہانگیر ترین کے وکلاء نے جوابی دلائل میں رد کیا۔نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کو دو ہزار دو کے کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر نااہل نہیں کیا جا سکتا،اگر ان کاغذات میں اثاثے چھپائے گئے ہوتے تو ریٹرننگ افسر اسی وقت مسترد کر دیتا۔

جبکہ جہانگیر ترین کے وکیل نے دلیل دی کہ زرعی اراضی لیز پر لی گئی تھی ، وہ لیز کی زمین پر ٹیکس ادا کرنے کا پابند نہیں تھے، وکلاء کے دلائل ختم ہوئے تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت دلائل کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سپریم کورٹ نے فیصلہ چودہ نومبر کو محفوظ کیا تھا، جسے آج سنا دیا گیا۔

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top