تازہ ترین
مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھنے کا فیصلہ

مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: (14 جولائی 2018) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو جیل میں بی کلاس دے دی گئی جب کہ مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل نہیں کیاجارہا اور انہیں اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائےگا۔

ایون فیلڈ ریفرنس کے کیس میں سزا پانے والے نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو گزشتہ روز وطن واپس پہنچنے پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ذرائع کے مطابق نواز شریف كو سیكیورٹی كمپاؤنڈ كے ایك كمرے میں جبکہ مریم نواز كو خواتین بیرك میں رکھا گیا،سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی کو ناشتے میں چائے، آملیٹ اور پراٹھا دیاگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے مكمل ناشتہ کیا جبکہ نواز شریف نے چائے پر اکتفا کیا،چائے پینے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نے اپنی ادویات لیں۔جیل مینول کے مطابق بی کلاس میں ٹیلی ویژن، اخبار اور بیڈ کی سہولت دی جاتی ہے جب کہ اٹیچ باتھ روم، پنکھا اور ایک مشقتی بھی دیا جاتا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو گزشتہ رات اڈیالہ جیل میں ہی رکھا گیا تھا اور انہیں سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، انہیں خواتین کے سیل میں منتقل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ایک ہی کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے، تینوں کے کمرے الگ الگ ہیں تاہم وہ کمپاؤنڈ میں ملاقات کر سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کا میڈیکل چیک اپ بھی کیا گیا جس میں میدْیکل ٹیموں نے دونوں کو صحت مند قرار دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک، نواز شریف اور دیگر کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرے گی۔اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا حکم قومی احتساب آرڈیننس کی شق سولہ کے تحت دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چھ جولائی کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنادئی تھی، فیصلے کے تحت ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا ہے جب کہ لندن میں موجود ایون اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

احتساب عدالت نے دو جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران ان کی 7 دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی۔یادرہے کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے،واضح رہے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ کی گذشتہ سال اٹھائیس جولائی کے فیصلے پر عدالتی حکم پر دائر کیے گئے تھے۔

دوسری جانب گذشتہ روز ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 423 کے ذریعے وطن واپس پہنچے اور جیسے ہی ان کا طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، وہاں موجود نیب ٹیم نے دونوں کو گرفتار کرلیا جب کہ ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کرلیے گئے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتاری کے بعد خصوصی چارٹر طیارے کے ذریعے اسلام آباد لے جایا گیا،بعد ازاں انہیں طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا جہاں پمز اسپتال سے آئے چار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طورپر فٹ قرار دیتے ہوئے ان کی میڈیکل ہسٹری مرتب کرلی۔

طبی معائنے کے بعد نواز شریف کو ہائی سیکیورٹی زون کے کمرے میں رکھا گیا ہے جب کہ مریم نواز کو خواتین کی بیرکس میں منتقل کردیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق نواز شریف کو جیل میں بی کٹیگری چیف سیکریٹری کے حکم پر دی جائے گی تاہم یہ کیٹگری نواز شریف کی جانب سے درخواست دیے جانے پر ہی انہیں ملے گی۔ اس حوالے سے جیل حکام نے میاں نواز شریف کو بی کلاس کے حصول کے لیے ایس او پیز سے آگاہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

براہ راست: نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں بی کلاس سہولتیں دے دی گئی

لاہور: انقلاب آکر بھی چلا گیا، شہبازشریف ماڈل ٹاؤن سے بھی نہ نکل سکے، فواد چوہدری

 

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top