تازہ ترین
محکمہ ثقافت سندھ میں سردار احمد کی نوازشات کا سلسلہ بدستورجاری

محکمہ ثقافت سندھ میں سردار احمد کی نوازشات کا سلسلہ بدستورجاری

کراچی: (15 ستمبر 2017، رپورٹ امتیاز چانڈیو) وزیرثقافت سندھ نے اپنے دوست کو نوازنے کے لئے سندھ ٹوئرازم ڈولپمینٹ کارپوریشن میں تعینات ایس ٹی ڈی سی افسرغلام مرتضی دائودپوتو کو نوکری سے نکال دیاہے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

اب تک کو حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزیرثقافت سیدسردارشاہ نےسندھ ٹورازم ڈولپمینٹ کارپوریشن میں تعینات ایس ٹی ڈی سی افسر غلام مرتضی داؤدپوتو کو محض اس لئے نوکری سے نکال دیا ہے کیونکہ اس پوسٹ پر صوبائی وزیر نے اپنے دوست کو تعینات کرنا ہے ۔

دوست کی تعنیاتی کے لئے محکمہ کے افسر کو نوکری سے برخاست کرنے والے صوبائی وزیر نے غلام مرتضی کو26دسمبر2016 کو 17سے گریڈ 18 میں ترقی کی منظوری دی تھی، مگر 25 اگست 2017 پرایک حکم نامےمیں ترقی کو منسوخ اوردوسرے میں نوکری کی برطرفی کا حکم جاری کردیا گیا۔نوکری سے نکالے جانے والے افسرغلام مرتضی داؤد پوتو کا کہنا ہے کہ وزیرثقافت سردار شاہ نےخودترقی دی اور پھرخود ہی نکال کر غیرقانونی کام کیا ہے، غلام مرتضی داؤد پوتو کا موقف ہے کہ مجھے اس لیےنکالا گیا کہ وزیرنے اپنےدوست کو نوکری دینی ہے،حالانکہ
سندھ ہائی کورٹ سے میں نے اسٹےآرڈر لے رکھا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر ثقافت سندھ سید سردار شاہ نے ٹوئرسٹ کنسلٹنٹ کی انوکھی اسامی پیدا کر کے اپنے دوست کو بھرتی کرایا تھا جبکہ اپنے ہی محکمے میں سیاسی سپورٹ حاصل کرنے کے لئے ایک اور دوست اور معروف بزنس مین قاسم سراج سومرو کو پاکستان پیپلزپارٹی کلچر ونگ سندھ کا صدر بنوانے کی لابنگ میں کامیاب ہوگئے تھے۔دوسری جانب صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے کسی دوست کو سیاحت کا کنسلٹنٹ مقرر نہیں کیا ہے. سردار شاہ نے چیلینج بھی کیا کہ یہ سراسر بے بنیاد خبر ہے لہذا اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں کوئی ثبوت یا نوٹیفکیشن ہے تو وہ پیش کیا جائے۔ سردار شاہ نے غلط پروپیگنڈا کرنے والوں کو پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

اب تک نیوز کے ڈپٹی بیورو چیف امتیاز چانڈیو سردار شاہ کے چیلینج کےحوالے سے محکمہ اطلاعات سانگھڑ کی جانب سے جاری ہینڈ آؤٹ کو منظرعام پر لے آئے ہیں، جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ محکمہ ثقافت کے ٹوئرسٹ کنسلٹنٹ نے کمشنر بینظیرآباد سے ملاقات کی اور ثقافتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اگر یہ سب کچھ بے بنیاد ہے تو وزیر کے ذاتی دوست نے کس حیثیت میں ملاقات کی اور سرکاری محکمے نے کیسے بیان جاری کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے

وزیر ثقافت سندھ کی اقرباء پروری عروج پر، آسامیاں پیدا کرکے تعیناتیاں جاری

زیر التوا کرپشن کیس میں تاخیر ، سندھ ہائی کورٹ کا نیب پر اظہار برہمی

 

 

Comments are closed.

Scroll To Top