تازہ ترین
پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ

اسلام آباد:(10ستمبر 2018)خصوصی عدالت نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے پرویزمشرف کو وطن واپس لانے اوربیان ریکارڈ سے متعلق جواب طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس یاورعلی کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے دو رکنی بینچ نے پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کی، جبکہ جسٹس طاہرہ صفدر آج کی سماعت میں بھی موجود نہیں تھیں۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیئے کہ سنگین غداری کیس میں تمام شہادتیں ریکارڈ ہوچکی ہیں، نصیرالدین نیئر دلائل دینگے کہ ملزم کا بیان ریکارڈ نہ ہوتو مقدمہ کیسے آگے چلے گا اورنصیرالدین نیئر یہ بھی دلائل دینگے کہ ملزم کا 342کا بیان اسکائپ پر ریکارڈ ہوسکتاہے؟۔انہوں نے سوال کیا کہ حکومت ملزم کوعدالت میں پیش کرنے کے لئے کیا اقدامات کررہی ہے؟جس پر نمائندہ وزارت داخلہ نے موقف اپنایا کہ انٹرپول کے ذریعے پرویزمشرف کی گرفتاری کی درخواست کی گئی تھی۔

جسٹس یاور نے ریمارکس دیئے کہ وزارت داخلہ آئندہ سماعت پر تحریری طور پر بتائے ملزم کو پیش کرسکتے ہیں یا نہیں، بعد ازاںخصوصی عدالت کے جج جسٹس یاورعلی نے نو اکتوبرسے سنگین غداری کیس کی روزانہ سے سماعت کا فیصلہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آخری مرتبہ سنگین غداری کیس ملتوی کررہے ہیں اور نو اکتوبرسے سنگین غداری کیس کی روزانہ سے سماعت ہوگی اس کیس کو ادھر یا ادھر منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

سنگین غداری کیس میں اکرم شیخ کی علیحدگی کی درخواست منظور

یاد رہے کہ انتیس اگست کو خصوصی عدالت نے پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس میں پراسیکیوٹراکرم شیخ کی مقدمے سے علیحدگی کیلئے درخواست کومنظورکرلیا تھا، اٹھارہ اگست کو پرویزمشرف غداری كیس میں وزارت داخلہ نے پراسیكیوٹرٹیم كے سربراه اكرم شیخ كا استعفی قبول كرنے سے انكار كرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ نئی حكومت كے آنے كی وجه سے استعفی قبول كرنے كے عمل میں مزید وقت دركار ہے،خط میں کہا گیا تھا کہ اگر كسی وجہ سے اكرم شیخ پیش نہ ہوئے تو كسی ذمہ دار لاء آفیسر كو سماعت كے لیے بھیجا جائے۔اس سے قبل اکتیس جولائی کو معروف قانون دان اکرم شیخ نے مشرف سنگین غداری کیس میں استغاثہ کی ٹیم کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا تھا،اکرم شیخ نے استعفیٰ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو بھجوایا تھا۔

استعفے کا متن کے مطابق پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس میں شہادتیں رکارڈ کی جا چکی ہیں،پرویزمشرف کاحتمی بیان قلم بند کرنے کے لئے تاریخ مقرر کی گئی ہے جبکہ عام انتخابات کے بعد نئی حکومت تشکیل پانے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے گزشتہ حکومت نے سنگین غداری کیس میں استغاثہ کی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دوں،نئی منتخب حکومت سنگین غداری کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہے تونیا پراسیکیوٹر تعینات کرے۔اس سے قبل سترہ مارچ کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف کیس کا تحریری حکم جاری کیا تھا، حکم  نامے میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت پرویزمشرف کی جائیداد کی ضبطی کے اقدامات کرے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ پرویزمشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنے کے اقدامات کرے اور وزارت داخلہ پرویز مشرف کی گرفتاری کیلئے انٹرپول کےذریعے کارروائی کرے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

 رواں سال مارچ میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیٰی آفریدی کی معذرت کے بعد سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سنگین غداری کیس:آئندہ سماعت پر سیکریٹری داخلہ طلب

مشرف سنگین غداری کیس،اکرم شیخ کا پیروی سے انکار

 

Comments are closed.

Scroll To Top