تازہ ترین
عدلیہ مخالف تقاریر: سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کو نوٹس جاری

عدلیہ مخالف تقاریر: سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کو نوٹس جاری

اسلام آباد: (17 اپریل 2018) چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج دن ایک بجے کے لئے مقرر کردی ہے، اس سلسلے میں چیف جسٹس نے پیمرا کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوسری جانب سپریم کورٹ نے عدلیہ مخالف تقاریر پابندی پر از خود نوٹس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو نوٹسز جاری کر دیئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا محترم اٹارنی جنرل ہائیکورٹ کا حکم پڑھیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا عدالتی حکم کو پڑھے بغیر ہی ڈھول پیٹا جاتا رہا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا پیمرا کا نمائندہ کہاں ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آپ نے کیس ایک بجے سماعت کیلئے لگایا تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ٹھیک ہے کیس کو ایک یا 2 بجےسن لیتے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو بھی نوٹس جاری کر رہے ہیں ، اگر ذاتی حیثیت میں نہیں آنا چاہتے تو ان کے وکیل آجائیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا چاہتے ہیں کہ ان کی عدالت میں نمائندگی ہو۔ اٹارنی جنرل نے کہا میں نواز شریف اور مریم نواز کی دستیابی معلوم کر لیتا ہوں۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف اور مریم نواز سمیت دیگر سولہ لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کرتے ہوئے پیمرا کو حکم دیا کہ پندرہ روز میں عدلیہ مخالف تقریر کا نوٹس لیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا جس میں پیمرا کو 15 روز میں ان درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پیمرا 15 دن میں خود فیصلہ کرے کہ ان تقاریر کو نشر کیا جانا چاہیے یا نہیں، جب کہ اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ 15 دن کے دوران توہین عدالت پرمبنی کوئی مواد ٹی وی وی چینلز پر نشر نہ ہو۔ عدالت نے پیمرا کو 15 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ہائیکورٹ کے فل بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف، مریم نواز، خواجہ سعدرفیق، دانیال عزیز، طلال چودھری سمیت 16 شخصیات کی عدلیہ مخالف تقاریر نشرکرنے پر پابندی عائد کردی۔

واضح رہےکہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے تشکیل دیا جانے والا فل بینچ تین مرتبہ تحلیل ہوا تھا جس میں ججز نے ذاتی وجوہات کی بناء پر درخواستوں پر سماعت سے معذرت کی تھی۔اس سے قبل کل ہی لاہورہائیکورٹ کے فل بینچ نے نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف عدلیہ مخالف تقاریر کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، پیمرا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرتقریرکے دوران توہین عدالت ہوئی ہے تواس پر عدالت کوتوہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہئے ،جبکہ نوازشریف کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرا اپنے کوڈآف کنڈیکٹ پر عمل درآمد کا پابند ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی تقاریرپر کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عدلیہ مخالف تقریر پر سابق وزیراعظم سمیت 14 وفاقی وزرا کو نوٹس جاری

چیف جسٹس کا سیاستدنوں کو عدلیہ مخالف بیانات سے گریز کرنے کا مشورہ

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top