تازہ ترین
وزیراعلیٰ پنجاب کا کرشنگ نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی کا حکم

وزیراعلیٰ پنجاب کا کرشنگ نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی کا حکم

لاہور:(19 دسمبر 2018)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واضح ہدایات کے باوجود کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے والی بعض شوگر ملوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم کئے جانے کے باوجودشوگر ملیں نہ چلانے کا کوئی جواز نہیں ،شوگر ملیں نہ چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی، ہم کسی صورت کاشتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے، تحریک انصاف کی حکومت اپنے کسان بھائیوں کے ساتھ ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مزید کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کے مفادات پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ وزن میں کٹوتی کی شکایت پر بلاامتیاز ایکشن لیا جائے گا۔ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا معاوضہ دلایا جائے گا،کاشتکاروں کی حق تلفی نہیں ہونے دی جائے گی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی وزیر خوراک، سیکرٹری خوراک اور کین کمشنر کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گنے کی مقرر کردہ قیمت پر فروخت یقینی بنائی جائے گی۔ شوگر ملیں کاشتکاروں سے گنا مقرر کردہ نرخوں پر خریدنے کی پابند ہوں گی۔واضح رہے کہ سات دسمبر کو شوگر ملز مالکان نے پنجاب بھر میں گنے کی کرشنگ کا آغاز کیا تھا،یہ فیصلہ کاشت کاروں کی جانب سے ملتان روڈ لاہور میں دئیے گئے دھرنے کے بعد ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیا تھا۔

چیئرمین کسان اتحاد چوہدری انور کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، کسانوں پر جتنے نا جائز پرچے درج ہیں ختم کیے جائیں گے۔

مذاکرات میں کاشت کاروں کے خلاف کیسز واپس لینے کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ کھاد کی قیمت میں کمی کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔کسان اتحاد وفد اور وزیرِ اعلیٰ کی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹیوب ویلز کے بلز کے مسائل ایڈیشنل چیف سیکریٹری توانائی حل کرائیں گے،اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کاشت کار میرے بھائی ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ میری ذمہ داری ہے، کاشت کاروں کے جائز مطالبات حل کریں گے۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کاشت کاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے گا، شوگر ملز مالکان نے کل سے مِلیں چلانے کی یقین دہانی کرائی ہے، گنے کے کاشت کاروں کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے۔

بعد ازاں چیئرمین کسان اتحاد چوہدری انور نے کہا کہ گنے کا ریٹ 180 روپے ہوگا، وزیرِ اعلیٰ نے گارنٹی دی ہے، گندم کی قیمت کا اعلان 1300 روپے فی من کیا گیا ہے، کھاد کی قیمت کا معاملہ وفاق کا ہے، معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، ہر مل میں کسان اتحاد کا ایک نمائندہ ہوگا، مل مالک ریٹ کم کرے گا تو کارروائی ہوگی۔ترجمان وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز گل نے کہا کہ سابقہ حکومت نے شوگر ملز مالکان کو 2 ارب 90 کروڑ سے زائد رقم ادا کرنا تھی، کل سے شوگر ملوں میں کرشنگ شروع ہو جائے گی، گنے کا ریٹ 180 روپے سے ایک پیسا کم نہیں ہوگا۔

 

چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن نعمان خان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں، کل سے شوگر ملز کام شروع کر دیں گی۔ وزیرِ خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے سبسڈی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور تعاون کیا، کسانوں کی نمائندہ تنظیموں کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کسان اتحاد نے پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ کی دھمکی دے دی

حکومت چینی کرشنگ موسم کے بروقت آغاز کو یقینی بنائے، کسان بورڈ

Comments are closed.

Scroll To Top