تازہ ترین
خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں سول و سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری

خیبرپختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں سول و سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری

پشاور: (09 فروری 2019) خیبرپختونخواہ حکومت نے قبائلی اضلاع میں سول و سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے صوبے کے پانچ ڈویژن پشاور، ملاکنڈ، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان میں شامل سات نئے قبائلی اضلاع خیبر، مہمند، باجوڑ اورکزئی، کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان میں سول و سیشن کورٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔

سات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں، 14 ایڈیشل ڈسٹرکٹ سیشن ججوں، 7 سینئر سول ججوں جبکہ 24 سول ججوں سمیت کل 907 آسامیوں کی بھی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سول و سیشن کورٹ کیلئے آسامیاں پُر کی جائیں گی۔ سول و سیشن کورٹ کے قیام پر سالانہ545 ملین روپے سے زائد لاگت آئے گی جس سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

انضمام کے نتیجے میں سات نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے گریڈ 21 کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی تعداد سات ہو گی جبکہ گریڈ 20 کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی تعداد مجموعی طور پر 14 ہو گی۔

اسی طرح سات اضلاع کیلئے گریڈ 19 کے سنیئر سول جج سات جبکہ گریڈ 18 کے سول جج کی تعداد 24 ہوگی۔ ان آسامیوں کے ساتھ ساتھ ایکسلری اسٹاف کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ ان اضلاع میں ترقیاتی حکمت عملی، شفاف حکمرانی اور قبائلی اضلاع میں انصاف کیلئے ملکی سطح پر موجود انصاف کا ڈھانچہ کھڑ اہو جائے گا۔ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top