تازہ ترین
جیلوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

جیلوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

اسلام آباد: (8 جنوری 2018) چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جیلوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے متعلق نوٹس لیتے ہوئے  چاروں صوبوں کے آئی جیز جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کرلی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ نوٹس ایک کیس کی سماعت کے دوران لیا گیا، جسٹس میاں ثاقب نثار نے جیلوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی پر لینے والے ازخود نوٹس کے بعد چاروں صوبوں کے آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کی ہے ۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ازخود نوٹس میں آئی جی جیل خانہ جات کو صاف پانی کی دستیابی سے متعلق تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آج مارگلہ ہل کٹائی کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں آئندہ ہفتے سے اصلاحات شروع ہوجائے گی لیکن پھر کوئی نہ کہے کہ ہم مداخلت اور تجاوز کررہے ہیں۔

سماعت کے موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے قوانین میں عدم مطابقت پائی جاتی ہے، بہت سے معاملات میں قواعد و ضوابط تک نہیں بنائے گئے، زبانی کلامی جائیدادیں الاٹ کردی گئی، بتائیں یہ سارے معاملات ٹھیک کرنے میں کتناوقت لگے گا؟۔
جس پر طارق فضل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پہلے بیس سال وفاق کو پنجاب چلاتارہا، مجھے کیڈ کے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دے دیں ، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے وزارت کیڈ کوسی ڈی اے قوانین میں یکسانیت سے متعلق قانون سازی کے لیے دو ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ دن رات مخلص انداز سے کام کریں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے طارق فضل چوہدری سے استفسار کیا پوری دنیا میں قانون سازی کس کی ذمے داری ہوتی ہے؟ اس پر وزیر مملکت برائے کیڈ نے جواب دیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے۔

جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ نے کیا اصلاحات متعارف کرائی ہیں؟ عدالتی نظام میں ہم اصلاحات لے کر آئیں گے، عدلیہ میں بھی ایک ہفتے میں اصلاحات شروع ہوجائیں گی، ویسے یہ ہمارا کام نہیں، ہمارے اصلاحات لانے پر پھر کوئی یہ نہ کہے کہ ہم مداخلت اور تجاوز کر رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے وزارت کیڈ کوسی ڈی اے قوانین میں یکسانیت کے لئے قانون سازی کیلیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت دو ماہ کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کا نیب میں خالی آسامیاں ایک ہفتہ میں پُر کرنے کا حکم

وزارت کیڈ کو سی ڈی اے قوانین میں مطابقت کے لئے دو ماہ کی مہلت

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top