تازہ ترین
اختیارات نہ ہوں تو مقامی حکومت کیسے کام کرینگی، چیف جسٹس

اختیارات نہ ہوں تو مقامی حکومت کیسے کام کرینگی، چیف جسٹس

اسلام آباد: (11 جنوری 2019) میئرلاہوراورایل ڈی اے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میئرلاہوربتا دیں ان کے اختیارات کیا ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اصغر خان کیس سے متعلق سماعت کی،عدالت عظمیٰ‌ میں سماعت کے دوران میئرلاہورکی جانب سے زبانی طورپرمتعدد نکات سےعدالت کوآگاہ کیا گیا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میئرلاہوربتا دیں ان کے اختیارات کیا ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فنڈزکے بغیرمقامی حکومتیں کیسے کام کریں گی، اصل کام تواب لوکل باڈیزنے کرنا ہے لیکن اختیارات ہی نہیں ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ طیب اردگان نے کہا تھا کہ 16 سال سے صدراوروزیراعظم رہا ہوں لیکن سب سے زیادہ عہدہ بطورمیئراستنبول بہترتھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اختیارات نہیں ہوں گے تومقامی حکومتیں کیسے کام کریں گی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب حکومت سمجھتی ہے اختیارات واپس منتقل کرے گی۔

میئر لاہور نے بتایا کہ مفلوج کردیا گیا اورتمام اختیارات ایل ڈی اے کودیے گئے، 2 سال سے اختیارات کے لیے جنگ لڑرہا ہوں،انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ کمشنراورڈپٹی کمشنربراہ راست میرے دفتراورملازمین پر اثر انداز ہوتے ہیں، ہمارے دفترکے ملازمین کا آئے روزتبادلہ کردیا جاتا ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے میئرلاہورکودرخواست میں ترمیم کی اجازت دیتے ہوئے تحریری طورپرمعروضات پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے میئرلاہوراورایل ڈی اے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Comments are closed.

Scroll To Top