تازہ ترین
انورمجید اورعبدالغنی مجید کو اسپتال سے جیل منتقل کرنے کا حکم

انورمجید اورعبدالغنی مجید کو اسپتال سے جیل منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد: (24 ستمبر 2018) سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤئنٹس سے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں گرفتار انورمجید اورعبدالغنی مجید کو اسپتال سے جیل منتقل کرنے کاحکم دے دیا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلی سندھ نے دوبارہ ملزمان کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی تو سخت ایکشن لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے انورمجید اورعبدالغنی مجید کے میڈیکل بورڈ سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انورمجید ،عبدالغنی مجید کی ای میل سے موصول میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سرجن جنرل پاکستان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے رپورٹ کے ساتھ اپنی سفارشات بھی پیش کی ہیں،چیف جسٹس نے وکیل سے دریافت کیا کہ انور مجید نے سرجری کب کروانی ہے؟ اگر سرجری کروانی ہے تو کروالیں ورنہ جیل بھیج دیں،بتادیں انور مجید نے اسپتال میں رہنا ہے یا جیل میں؟

اس موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیمورائڈ بیماری تو کریم سے بھی ٹھیک ہوجاتی ہے، اس کے علاوہ انور مجید کا دل کا کوئی معاملہ تو ہے ہی نہیں، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا انور مجید سرکاری مہمان ہیں؟ انہیں جیل میں شفٹ کردیں،ڈیڑھ ماہ سے موجیں لگا رکھی ہیں۔اس پر اومنی گروپ کے وکیل نے بتایا کہ ساؤتھ سٹی اسپتال سے انور مجید کا آپریشن کروانا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ساؤتھ سٹی اسپتال ڈاکٹر عاصم کا تو نہیں؟ ، جس پر جناح اسپتال کی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ نہیں، ساؤتھ سٹی پرائیویٹ اسپتال ہے۔

اس دوران سماعت میں وقفہ کیا گیا ، وقفے کے بعد انور مجید ، عبدالغنی مجید اورحسین لوائی کی اصل میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی،عدالت نے رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد تینوں ملزمان کو جیل منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مخاطب ہوتے کہا کہ وزیر آعلئ سندھ کو میرا خصوصی پیغام پہنچا دیں کہ دونوں ملزمان کو دوبارہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ایکشن لیا جائے گا،ساتھ ہی ملزمان کو سندھ سے پنجاب یا کسی دوسرے صوبے منتقل کردیا جائے گا۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

دوسری جانب آج ہی جعلی بینک اکاؤئنٹس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ ٹیم نے کیس سے متعلق اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی، جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے پہلی پیشرفت رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا اور اب تک کی ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

احسان صادق نے بتایا کہ مزید تینتیس مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کی اسکروٹنی کی جارہی ہے اور اب تک کی تحقیقات میں تین سو چونتیس ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنر کرتے رہے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ دو سو دس کمپنیوں کے روابط رہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابھی لانچز کا معلوم نہیں ہوا، ذرا لانچ کے ذریعے رقم منتقلی کا بھی پتہ کریں، احسان صادق نے کہا کہ ابھی لانچ تک نہیں پہنچے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بڑے اعتماد کے ساتھ جے آئی ٹی کو ذمہ داری دی ہے، اکاؤنٹس کا مقصد یہی ہے چوری اور حرام کے پیسے کو جائز بنایا جائے، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اہم کردار عارف خان بھی ہے، جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ وہ بیرون ملک ہے۔

احسان صادق نے کہا کہ جو ملزمان باہر ہیں انہیں واپس لانے کے اقدامات کر رہے ہیں جس کے لیے ملزمان کے ریڈ وارنٹ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں جب کہ تحقیقات کے لیے نیب ، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ لے رہے ہیں۔سربراہ جے آئی ٹی نے مزید بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس میں کنٹریکٹرز نے رقم جمع کرائی ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ رقم کراس چیک کے ذریعے اکاؤنٹس میں جمع ہوئی؟’ احسان صادق نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا جائزہ لینا پڑے گا، کمپینوں میں 47 کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا اومنی گروپ کی کتنی شوگر ملز ہیں، جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا سولہ شوگر ملز ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کیا اومنی گروپ کسی کا بے نامی دار تو نہیں جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس میں رقم جمع کروانے والے ٹھیکیدار بھی تھے، سرکاری ٹھیکیداروں کے نام بھی رپورٹ کا حصہ بنا دیئے تاہم تمام ٹرانزیکشنز کا جائزہ لینا مشکل کام ہے۔چیف جسٹس نے کہا جے آئی ٹی کا خرچہ اومنی گروپ پر ڈالیں گے، پیسہ کوئی کھائے اور خرچہ سرکار کیوں کرے۔

اس موقع پر اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید و عبدالغنی مجید کے وکیل نے جے آئی تی اخراجات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اکاؤنٹس منجمد ہیں، ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسہ نہیں۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کوئی گھر بیچ کر اخراجات کیلیے جے آئی ٹی کو پیسے دیں جس پر وکیل نے کہا اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمند ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ اومنی گروپ کے اکاؤنٹس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ نہ دے، آرٹیکل 184 کے تحت اسپیشل کورٹ کو حکم جاری کرنے سے روکتے ہیں اور خصوصی عدالت جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کئے بغیر کوئی حکم جاری نہ کرے۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط کی کاپی اب تک نے حاصل کر لی ہے، دستاویزات کے مطابق جعلی اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے نے فنانس ڈویژن کی جانب سے منظور کی گئی ایک کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ اہم کیس میں اربوں روپے کے ہزاروں بینک اکاؤنٹس،ٹیکس ریکارڈز اور آڈٹ رپورٹس کی تفتیش ہونی ہے،جس کی تحقیقات کے لیے پروفیشنلز اور فرم کی خدمات لینے کے لیے فنڈنگ درکار ہے۔
دستاویز کے مطابق جے آئی ٹی کے کچھ افسران کو اسلام آباد ہیڈ کوارٹر سے کراچی بلایا گیا ہے جو ہوٹلوں میں رہائش پزیر ہیں،ایف آئی اے کو ان افسران کو رہائش کے لیے اخراجات درکار ہیں، کیونکہ محدود فنڈز کے باعث جے آئی ٹی کی تحقیقات اور کام متاثر ہورہا ہے۔

اب تک نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایف آئی اے کو دو کروڑ روپے مہیا کیے جائیں، مراسلے کے ذریعے وزارت داخلہ کو اس ضمن میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تیرہ ستمبر کو  سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤئنٹس کیس کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی نےکراچی کے علاقے گلستان جوہر میں اپناسیکریٹریٹ قائم کیا تھا، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق جےآئی ٹی کے سربراہ ہیں، اس سے قبل جےآئی ٹی ارکان نےاسلام آباد کی جگہ کراچی میں سیکریٹریٹ بنانےپراتفاق کیاتھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

یاد رہے کہ سات ستمبر کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی،ایڈیشنل ڈی جی کرائم ونگ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) احسان صادق کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔چھ رکنی جے آئی ٹی میں اسٹیٹ بینک سے ماجد حسین، نیب سے نعمان اسلم، ایس اسی سی پی سے محمد افضل، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر شاہد پرویز اور انکم ٹیکس سے عمران لطیف منہاس شامل کیے گئے تھے۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامے میں پابند کیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی ہر پندرہ دن میں سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرے گی،سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کہیں بھی اپنی آسانی کو سامنے رکھ کر سیکریٹریٹ بناسکتی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس معاملے کی تحقیقات کیلئے تمام پی آر پی قوانین کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے اور جے آئی ٹی، نیب و ایف آئی اے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت تفتیش کرے گی۔

عدالت کے احکامات کے تحت ملک بھر کی ایگزیکٹو اتھارٹی اور ایجنسی جے آئی ٹی کی مدد و سپورٹ کریں گے۔ ہر 15 دن میں جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی اور پہلی رپورٹ 15 دن کے اندر جمع کرائی جائے گی۔ جے آئی ٹی کو تحقیقات شفاف بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے ڈی جی رینجرز کو پابند کیا تھا کہ تمام تفتیش کرنے والوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ گواہوں کو ضرورت کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے گا اور جے آئی ٹی تحقیقات سے متعلق کوئی بھی پریس ریلیز و معلومات جاری نہیں کرے گی۔

سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کی تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جاری کردہ فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر حالات ایسے پیدا ہوگئے تو تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ جعلی بینک اکاؤنٹ کیس، زرداری گروپ کی دو نئی کمپنیوں کا انکشاف

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم

Comments are closed.

Scroll To Top