تازہ ترین
بلاول اور آصف زرداری اپنا پیسہ تھر میں خرچ کریں ، چیف جسٹس کے ریمارکس

بلاول اور آصف زرداری اپنا پیسہ تھر میں خرچ کریں ، چیف جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد: (11اکتوبر، 2018)چیف جسٹس نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کیس میں سندھ حکومت کو تین ہفتوں میں مثبت قدم اٹھاکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری اپنا پیسہ ان علاقوں پر خرچ کریں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

،اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ،سیکریٹری فنانس ، سیکریٹری ہیلتھ ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ ،سیکرٹری پاپولیشن ویلفئیر اور سیکرٹری ورک اینڈ سروسز سمیت اٹارنی جنرل اور درخواست گزار رمیش کمار عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تھر میں بنیادی مسئلہ خوراک اور پانی کی کمی ہے، جبکہ حکومت سندھ نے متاثرین کو گندم سمیت غذائی اجناس مہیا کر دی ہے، جس پر اعتراض کرتے ہوئے درخواست گزار پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ بتایا جائے کہ تھر کی حالت ایسی کیوں ہوئی ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو تھر سے متعلق تین ہفتے میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہر صورت تھر میں بچوں کی اموات رکنی چاہئیں، ساتھ ہی اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری ان علاقوں میں پیسہ خرچ کرے ۔

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ اتوار کو وہ مٹھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نو اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ تھر میں بڑے بڑے اسپتال بنائیں گے،لیکن وہاں آپ کو ڈاکٹر نہیں ملے گا، اسپتال میں مشینیں بہت بڑی بڑی ہونگی لیکن آپریٹر نہیں ہوتا، ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہاں کے حالات جاننے کے لئے مٹھی کے ڈسٹرکٹ جج کو بلا کر پوچھ لیں۔

درخواست گزار رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ تھر وہ علاقہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا، کمسن بچوں کی اموات صرف وزرات صحت کے بس کی بات نہیں وہاں دیگر اداروں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اہم معاملے پر چیف سیکریٹری اور وزیرا علیٰ سندھ کو بلالیتے ہیں ،کیونکہ یہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے، ساتھ ہی ہم ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے دیتے ہیں جوہمیں غیر جانبدار رپورٹ پیش کرے، ہم جلد تھر کا دورہ کرینگے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت گیارہ اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری فنانس ،سیکریٹری ہیلتھ ،ایڈوکیٹ جنرل سندھ ، سیکریٹری پاپولیشن ویلفئیر اور سیکریٹری ورک اینڈ سروسز کو طلب کرلیا ہے۔

دوسری جانب صحرائے تھر میں غذائی قلت کے باعث ننھے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے،محکمہ صحت سندھ کے مطابق سول اسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے باعث تین بچے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تھرپارکر میں رواں ماہ کے دوران اب تک سات بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ رواں سال کے دوران غذائی قلت اور قحط کے باعظ اموات کی تعداد چار سو تراسی تک پہنچ گئی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق تھرپارکر میں سالانہ پندرہ سو بچوں کو غذائیت کی کمی اور علاقے میں مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپریل میں جاری ہونے والے ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے بچوں کی فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ماہانہ بائیس بچے پیدائش کے بعد سے ایک مہینے کی عمر میں پہنچنے تک جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جس کے بعد پاکستان ایسے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں اس وقت بچوں کی موت کی شرح زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تھرپارکر میں غذائی قلت، 2 بچے دم توڑ گئے

تھرپارکر میں بچوں کی اموات، چیف جسٹس نے تحقیقاتی کمیشن بنا دیا

 

Comments are closed.

Scroll To Top