تازہ ترین
خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں سول عدالتی نظام کا اۤغاز

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں سول عدالتی نظام کا اۤغاز

پشاور:(11 مارچ 2019)خیبر ایجنسی میں انگریز کے سیاہ قانون ایف سی اۤر کے خاتمے کے بعد قبائلی عوام اور سائلین نے نئی سول عدالتوں سے رجوع کرنا شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئرسول جج خیبر ظفر اللہ کی عدالت میں پہلا کیس خیبر ایجنسی کے نادر خان نامی ایک طالب علم کی جانب سے دائر کیا گیا، جس کی سماعت آج ہی ہوئی، کیس گورنمنٹ کالج لنڈی کوتل کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

کالج سے رجسٹریشن کیلئے نادر نامی طالب علم نے درخواست دائر کی تھی،جس پر عدالت نے گورنمنٹ ڈگری کالج لنڈی کوتل کے پرنسپل کو نوٹس جاری کیا اور انہیں جمعرات کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں سول عدالتی نظام کا اۤغاز پر اٹھائیس جوڈیشل افسران کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ جوڈیشل افسران کے ساتھ اٹھارہ پبلک پراسکیوٹرز بھی تعینات کئے گئے ہیں۔

نئےعدالتی نظام کے بعد ہزاروں مقدمات پولیٹکل انتظامیہ سےعدالتوں کو منتقل کئے جائیں گے، جس کے تحت قبائلی اضلاع کے سائلین پہلی بار اپنے کیسز سول کورٹ میں جمع کراسکیں گے۔

Comments are closed.

Scroll To Top