تازہ ترین
بیگم کلثوم نواز کو سپرد خاک کردیا گیا

بیگم کلثوم نواز کو سپرد خاک کردیا گیا

لاہور: (14 ستمبر 2018) سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو جاتی امراء میں میاں شریف کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کثوم نواز کی نماز جنازہ مولانا طارق جمیل نے پڑھائی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے وفود نے نمازجنازہ میں شرکت کی۔ پی ٹی آئی کے وفد کی سربراہی گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کی جن کے ساتھ صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان اور صوبائی وزیر اسلم اقبال بھی شامل تھے۔

جبکہ پیپلزپارٹی کے وفد میں خورشید شاہ اور یوسف رضا گیلانی شامل تھے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم کی اہلیہ کا جسد خاکی پی آئی اے کی پرواز سات سو اٹھاون چھ بج کر انچاس منٹ پر لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ پرلایا گیا، بیگم کلثوم نواز کی میت کے ہمراہ حسین نوازکی اہلیہ سائرہ صالح، اسماڈار، حلیمہ ڈار، علی ڈار، ڈاکٹر عدنان خان، فیصل ٹوانہ، آصف بیگ مرزا، خدیجہ مرزا آئے جبکہ بیگم کلثوم نواز کےبیٹےحسن اورحسین نواز پاکستان نہیں آئے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جبکہ حمزہ شہباز،سلمان شہباز،یوسف عباس،عزیز عباس اور عطا تارڑ نے ایئرپورٹ سے میت کووصول کیا، بعد ازاں سابق خاتون اول کی میت شریف میڈیکل سٹی لائی گئی جہاں نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد نے مرحومہ کا آخری دیدار کیا۔والدہ کے آخری دیدار کے وقت مریم نواز زاروقطار روتی رہیں، جبکہ نواز شریف نے آخری دیدار کے بعد خود کلثوم نواز کی میت کو کندھا دیا، جسے بعد ازاں شریف میڈیکل سٹی کے سرد خانے میں رکھ دیا گیا ہے، جہاں شریف خاندان کے افراد موجود ہیں جبکہ کسی اور شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

مریم نواز اور نواز شریف سے لیگی کارکنان اور رہنماؤں کا اظہار تعزیت

گذشتہ روز لیگی کارکنان اور رہنما میاں نواز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور مریم نواز ملاقات کرتے رہے۔ صدر ایم ایم اے مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ جاتی امرا پہنچے تو انہوں نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، مولانا نے اس موقع پر کہا کہ مرحومہ ایک بہادر خاتون تھیں، انہوں نے جمہوریت کی بالادستی کے لئے جو جدوجہد کی وہ نا قابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس دکھ کی گھڑی میں ہم شریف خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وفد میں مولانا عبد الغفور حیدری، پیر اعجاز ہاشمی، لیا قت بلوچ، مولانا امجد خان شامل تھے۔ اس موقع پر تعزیت کیلئے کارکن بڑی تعداد میں نواز شریف کے اردگرد جمع ہوگئے جس پر دھکم پیل ہوئی جس کی وجہ سے فضل الرحمان اور نواز شریف کو دھکے لگے، اس موقع پر احسن اقبال کارکنوں کو پیچھے رہنے کیلئے کہتے رہے۔ کارکنوں نے آئی لویو نواز شریف، ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے کے نعرے لگائے۔ مولانا فضل الرحمان نے پنڈال میں کلثوم نواز کے درجات کی بلندی کیلئے اجتماعی دعا کرائی۔سابق صدر ممنون حسین، حاصل بزنجو، میاں افتخار حسین، آفتاب شیر پاؤ، افراسیاب خٹک، زاہد خان، وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حید ر نے سپیکر اسمبلی، وزیر اطلاعات مشتاق منہاس و دیگر کے ہمراہ نواز شریف سے ملاقات کی اور کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل، مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفرالحق، اقبال ظفر جھگڑا، مشاہد اللہ خان، مشاہد حسین سید، زبیر احمد، ایاز صادق، زاہد حامد، دانیال عزیر، سعد رفیق، ڈاکٹر اسد اشرف ، رانا مشہود، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، راحیل منیر، مصدق ملک، طلال چوہدری، پرویز ملک، خواجہ عمران نذیر، علی پرویز، میئر لاہور مبشر جاوید، امیر مقام، بلال یاسین اور زبیر گل بھی تعزیت کیلئے پہنچے اور نواز شریف سے ملاقات کی۔

کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کرنے کیلئے خواتین کی بھی بڑی تعداد پہنچی، خواتین نے مریم نواز سے ملاقات کی، مریم نواز تقریباً ایک گھنٹے تک خواتین کے پنڈال میں موجود رہیں۔ مریم نواز سے ملنے کیلئے آنیوالی لیگی رہنماؤں عظمیٰ بخاری، حنا پرویز بٹ نے اس موقع پر کہا کہ کلثوم نواز کا دنیا سے جانا نہ صرف ن لیگ بلکہ جمہوریت کیلئے بڑا نقصان ہے۔ اس موقع پر نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے بیٹے جنید صفدر بھی خواتین کے پنڈال میں موجود تھے۔

نمازہ جنازہ کی تیاریاں

بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ آج شام جاتی امرا کے شریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں ہی ادا کی جائے گی اور معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نماز جنازہ پڑھائیں گے،نماز جنازہ کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئیں، جناز گاہ میں صفوں کی نشاندہی کے لیے لائنیں لگائی گئی ہیں جب کہ لاؤڈ اسپیکر بھی نصب کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹی انتظامات

بیگم کلثوم نواز کی تدفین کیلئے پولیس نے سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے، جاتی عمرہ اور ملحقہ انیس مقامات پر تین شفٹوں میں مسلح پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر ایلیٹ فورس کی نو گاڑیاں پیٹرولنگ کررہی ہیں،سیکیورٹی ڈیوٹی کیلئے تین ایس پیز،تین ڈی ایس پیز،چھ ایس ایچ اوز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ دو مقامات پر آٹھ واک تھرو گیٹس لگائے جاچکے ہیں،جہاں ایلیٹ فورس کے کمانڈوز تعینات ہیں۔

پنجاب پولیس کے مطابق نمازجنازہ میں شرکت کرنے والوں کیلئے انٹری گیٹ اور پارکنگ کاانتظام سوئی گیس سوسائٹی میں کیاگیاہے،جبکہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

سیاسی جماعتوں کے وفود کی نمازہ جنازہ میں شرکت متوقع

گذشتہ روز پیپلزپارٹی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کے نماز جنازہ میں شرکت کیلئے وفد تشکیل دیا تھا، وفد میں یوسف رضاگیلانی، راجا پرویز اشرف، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، نوید قمر، چوہدری منظور اور حسن مرتضیٰ شامل ہیں، پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو بیگم کلثوم نواز کی تدفین کے بعد اہلخانہ سے تعزیت کریں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر مشتمل پی ٹی آئی کا وفد آج تعزیت کیلئے جاتی امراجائے گا۔ وفد میں صوبائی وزرا، اسلم اقبال اور محمودالرشید اور سپیکر قومی اسمبلی بھی شامل ہونگے۔ وفد نماز جنازہ میں بھی شرکت کرے گا اور میاں نوازشریف سے اظہار تعزیت کرے گا۔

گورنرپنجاب کی قیادت میں تحریک انصاف کاوفد کلثوم نواز کی نمازجنازہ میں شریک ہوگا،وفدمیں میاں محمود الرشید،میاں اسلم اقبال اوردیگروزرا شریک ہوں گے،چیئرمین سینیٹ بھی بیگم کلثوم نوازکی نمازجنازہ میں شرکت کریں گے اورنوازشریف سے تعزیت کریں گے،اس کے علاوہ خالدمقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیوایم کاوفدبھی نمازجنازہ میں شریک ہوگا۔

سابق خاتون اول کلثوم نواز کی سوانح حیات

بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔
انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔دو اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔

نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔

وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔

انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ وہ 2002ء میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔

جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔

ستائیس جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نااہل ہوچکے تھے،این اے ایک سو بیس میں ضمنی انتخاب کا نقارہ بچ چکا تھا جبکہ (ن) لیگ کی صدارت کیلئے سبھی حلقوں میں کلثوم نواز کا نام لیا جارہا تھا۔ سترہ اگست دو ہزار سترہ کو اچانک خبر آئی کہ بیگم کلثوم نواز بیماری کے باعث پی آئی اے کی پرواز پی کے سات پانچ سات سے لندن روانہ ہوگئی۔لندن پہنچنے کے چھ دن بعد بائیس اگست دو ہزار سترہ کو کلثوم نواز کے گلے کے کینسرکی تشخیص کی گئی ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کینسر ابتدائی اسٹیج پر ہے اور علاج ممکن ہے،بیگم کلثوم نواز لندن میں کینسر سے لڑ رہی تھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز آبائی نشست پر ان کی الیکشن مہم چلارہی تھیں،سترہ ستمبر کو ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نواز فاتح قرار پائیں، لیکن وہ حلف بھی نہ لے سکیں۔بیگم کلثوم نواز کی کینسر کے خلاف جنگ ایسی چھڑی کہ موت تک جاری رہی، ہارلے اسٹریٹ لندن میں اکتیس اگست دوہزار سترہ کو پہلی جبکہ نو ستمبر دوہزار سترہ کو دوسری سرجری کی گئی،ان موقعوں پر نواز شریف بھی موجود تھے،اکیس ستمبر دو ہزار سترہ کو ہونیوالی تیسری سرجری کو کامیاب قرار دے کر بیگم کلثوم نواز کو ان کے بیٹے حسن نواز کے فلیٹ پر منتقل کردیا گیا۔ستائس ستمبر دوہزار سترہ کو بیگم کلثوم نواز کی حالت بگڑنے پر انہیں ہارلے اسٹریٹ کلینک دوبارہ داخل کروادیا گیا،اور پھر کیمو تھراپی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے بیگم کلثوم نواز کو بستر کے ساتھ چپکا دیا۔

گیارہ اکتوبر دوہزار سترہ کو پہلی کیموتھراپی کی گئی، دوسری یکم نومبر، تیسری نومبر کے آخری ہفتے، چوتھی بائیس دسمبر، پانچویں نو جنوری دوہزار اٹھارہ جبکہ چھٹی اور آخری کیمو تھراپی فروری دو ہزار اٹھارہ میں کی گئی،فرق نہ پڑنے پر انیس اپریل کو ریڈیو تھراپی کرنا پڑی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

بائیس اپریل دو ہزار اٹھارہ کو خبر ملی کے کینسر پورے جسم میں پھیل گیا ہے،پندرہ جون دوہزار اٹھارہ کو بیگم کلثوم نواز کو ہارٹ اٹیک کے بعد انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کر دیا گیاجبکہ تین جولائی دوہزار اٹھارہ کو پھیپھڑوں کا آپریشن بھی کرنا پڑا، جس کے بعد انکی طبعیت بگڑتی چلی گئی،اور انہیں وینٹی لیٹر پر شفٹ کر دیا گیا۔اور آخر کار بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں ایک سال پچیس دن کینسر جیسے موذی مرض سے لڑائی کے بعد گیارہ ستمبر دوہزار اٹھارہ کو ہمت ہار گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور: بیگم کلثوم نواز کی میت پاکستان پہنچ گئی

بیگم کلثوم نواز کا جسد خاکی پاکستان کیلئے روانہ

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top