تازہ ترین
ایون فیلڈ ضمنی ریفرنس : مریم نواز کے وکیل کی واجد ضیا پر جرح مکمل

ایون فیلڈ ضمنی ریفرنس : مریم نواز کے وکیل کی واجد ضیا پر جرح مکمل

اسلام آباد: (17 اپریل 2018) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح مکمل کرلی جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت بیس اپریل تک ملتوی کردی ہیں جبکہ 23 اپریل کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں واجد ضیا کو طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پیش ہوئے۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے بتایا کہ 31 مئی کو بی وی آئی اٹارنی جنرل آفس کوایم ایل اے بھجوائی، فارن دستاویزات کی تصدیق شدہ کاپیاں مانگیں۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے نیلسن اورنیسکول کی تصدیق شدہ دستاویزات مانگی، ایم ایل اے میں نیلسن، نیسکول کے بینفشری کا ایڈریس مانگا، رجسٹرڈ ڈائریکٹر، نامزد ڈائریکٹراورشیئرہولڈرکی تفصیل مانگی، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ نے بتایا کہ سیٹلرکا نام، رابطہ اورایڈریس کی تفصیلات طلب کیں، ٹرسٹی، بینفشری آف ٹرسٹ اورکمپنیزسے متعلق تفصیل مانگی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ 23 جون 2017 کو بی وی آئی کوآخری ایم ایل اے بھیجا، ایم ایل اے میں ایف آئی اے بی وی آئی کوریکارڈ تصدیق کی درخواست کی جبکہ 16جون 2017 کو ای میل پر جواب موصول ہوا۔مریم نواز کے وکیل کی جرح مکمل ہوئی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ تین ایم ایل ایز کو عدالتی ریکارڈ پر بطور شواہد پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کی وکیل امجد پرویز کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔

امجد پرویز نے کہا کہ یہ ایم ایل اے پہلے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائے گئے جس پر عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کردی،عدالت نے مریم نواز کے وکیل کی جرح مکمل ہونے پر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 20 اپریل تک ملتوی کردی،احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 23 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو طلب کرلیا ہے۔

نیب کا برطانیہ سے حاصل دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ

نیب ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والے نیب کے متعلقہ ونگ کو ایون فیلڈ پراپرٹیز کے حوالے سے انتہائی اہم دستاویزات حاصل ہوئی ہیں جن میں برطانوی لینڈ رجسٹری ریکارڈ میں جائیدادوں کی ملکیت اور خریدو فروخت کی مکمل تفصیل موجود ہے۔نیب کو حاصل دستاویزات کے مطابق ایون فیلڈ پراپرٹیز کی ملکیت بے نامی کمپنیوں نیلسن اینڈ نیسکول کے نام 1993 سے 1995 کے درمیان منتقل ہوئی،دستاویزات شریف خاندان کے اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی منتقلی 2006۔2005 میں ہوئی۔

نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 1993 سے 1995 کے دوران میاں نواز شریف کے بچوں کے کوئی ذرائع آمدن نہیں تھے اور ان جائیدادوں کے اصل مالک میاں نواز شریف ہی ہیں،نیب کو حاصل ہونے والے موزیک فونسیکا کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز ان جائیدادوں کی بینیفشل آنر بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کے “بیان ڈکٹیشن نہیں لوں گا ” نے سیاسی تاریخ رقم کی، مریم نواز

احتجاج کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف

 

Comments are closed.

Scroll To Top