تازہ ترین
وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ کو اقتصادی اصلاحات کا پیکج قرار دے دیا

وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ کو اقتصادی اصلاحات کا پیکج قرار دے دیا

اسلام آباد: (23 جنوری 2019) وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ کو اقتصادی اصلاحات کا پیکج قرار دے دیا ہے۔

رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ نہیں بلکہ اصلاحات کا پیکج پیش کررہا ہوں۔ ہم عوام کواپنا حکمران سمجھتے ہیں، ہم خادم اعلیٰ بولتے نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوسکتے۔ ایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کاٹیکس بیس فیصد کررہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری اداروں پرٹیکس آدھا کیاج ارہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ بینک ڈپازٹس پر ود ہولڈنگ لگا ہوا ہے۔ فوری طور پرفائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے۔ ہمیں غریبوں کیلئے گھر بنانے ہیں جس کیلئے مراعات دے رہے ہیں۔ چھوٹے گھروں پر بینک قرض آمدنی کا ٹیکس انتالیس سے کم کرکے بیس فیصد کر رہے ہیں۔

اسدعمرنے بجٹ تقریرمیں بتایا کہ چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس بیس ہزارسے کم کر کے پانچ ہزار کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں نان فائلر پر نئی گاڑی خریدنے پر پابندی تھی تاہم اب نان فائلر آٹھ سے تیرہ سوسی سی تک گاڑی خرید سکے گا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کیلئے آزاد صحافت چاہیے، اس لیے نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔ حکومت کچھ صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی اور کچھ پر ختم کررہی ہے۔ کیمیکل کے شعبہ کیلئے خام مال پرسیلزٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں درآمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تیس ڈالرز سے کم قیمت کے موبائل پر سیلزٹیکس ڈیڑھ سو روپے ہوگا۔ تیس سے سو ڈالرز قیمت کے درآمدی موبائل پر ایک ہزار چار سو ستر روپے، جبکہ تین سو پچاس سے پانچ سو ڈالرز کے درآمدی موبائل پر سیلز ٹیکس چھ ہزار روپے عائد ہوگا۔

اسدعمر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ متوسط طبقوں کو گھروں کی تعمیر کیلئے پانچ ارب کی قرض حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اٹھارہ سو سی سی سے زائد انجن کی کاروں، جیپوں اور گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر پچیس فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں ہی بنے، اس لیے دوسرے ضمنی بجٹ میں قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام پر پانچ سال کیلئے ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top