تازہ ترین
آج پاکستان کے مشہور فلمی اداکار درپن کی برسی ہے

آج پاکستان کے مشہور فلمی اداکار درپن کی برسی ہے

 درپن کا اصل نام سید عشرت عباس تھا اور وہ 1928ءمیں یوپی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز ہدایت کار حیدر شاہ کی فلم امانت سے کیا جو 21 دسمبر 1950ءکو نمائش پذیر ہوئی تھی۔ امانت کے بعد انہوں نے پنجابی فلم بلو میں کام کیا اور پھر قسمت آزمائی کے لئے بمبئی چلے گئے جہاں انہیں براتی اور عدل جہانگیر نامی فلموں میں کام کا موقع ملا۔

چند برس بعد وہ لاہور واپس آگئے اور یہاں درپن کے فلمی نام سے فلم باپ کا گناہ سے اپنے فلمی کیریئر کا دوبارہ آغاز کیا۔ 1959ءمیں انہوں نے ایک فلم ساتھی بنائی جس میں ان کے ساتھ نیلو، طالش، حسنہ اور نذیر نے کام کیا۔ یہ فلم بہت مقبول ہوئی اور اسی سے درپن کی کامیابیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جن فلموں نے ان کے کیریئر کو بڑا استحکام بخشا ان میں رات کے راہی، سہیلی، انسان بدلتا ہے، دلہن، باجی، اک تیرا سہارا، شکوہ، آنچل، نائلہ اور پائل کی جھنکار کے نام سرفہرست ہیں۔ درپن نے مجموعی طور پر 67 فلموں میں کام کیا جن میں 57 فلمیں اردو، 8 فلمیں پنجابی اور دو فلمیں پشتو میں بنائی گئی تھیں۔ ان میں دو فلموں ساتھی اور سہیلی میں انہوں نے بالترتیب 1959ءاور 1960ءکے بہترین اداکار کے نگار ایوارڈ بھی حاصل کئے تھے۔ درپن نے بطور فلم ساز بھی چند فلمیں بنائیں جن میں بالم، گلفام، تانگے والا، انسپکٹر اور ایک مسافر ایک حسینہ کے نام شامل ہیں۔

darpan

درپن نے اپنے دور عروج میں نامور اداکارہ نیر سلطانہ سے شادی کرلی تھی۔ ان کی یہ شادی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اداکار سنتوش کمار ان کے بڑے بھائی تھے جبکہ مشہور ہدایت کار ایس سلیمان اور اداکار منصور ان کے چھوٹے بھائی تھے۔

درپن کا انتقال8 نومبر 1980ءکو لاہور میں ہوا وہ لاہور ہی میں مسلم ٹاﺅن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top