تازہ ترین
صحافتی اتار چڑھاو

صحافتی اتار چڑھاو

کالم کے اصل موضوع پر لکھنے سے قبل اپنے قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری 60 سالہ صحافتی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ میں نے صحافت کے زریں اصولوں پر اپنے ذاتی خیالات و نظریات کو کبھی غالب نہیں آنے دیا۔ 1960 سے اب تک صحافت سے متعلق گزارے ہوئے 58 سال کی طویل مدت میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کو انتہائی قریب سے دیکھا، سوچا، سمجھا اور رپورٹنگ کی۔ ایوب خان سے لے کر عمران خان تک جتنی بھی حکومتیں برسراقتدار آئیں اور ان کے ادوار میں جو اہم واقعات رونما ہوئے سب کا چشم دید گواہ اور مشاہدہ بھی کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے ذاتی تعلقات ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کی انتقامی سیاست کا پہلا نشانہ بھی میں ہی بنا۔

ایوب خان کے خلاف بھٹو کی شروع کردہ تحریک میں عملی طور پر شامل ہونے کے باوجود بطور صحافی نیشنل پریس ٹرسٹ کی پالیسی کے مطابق مسٹر بھٹو کو اکثر میرے تیز و تند سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو ان کی طبیعت پر گراں گزرتے تھے۔ آج کے موسمی سیاستدانوں اور سربراہان کی طرح مسٹر بھٹو اپنے کٹر سے کٹر مخالف صحافی کو پریس کانفرنس یا کسی جلسے میں ہدف تنقید نہیں بناتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو صحافیوں سے نہ صرف خود بلکہ اپنے جوشیلے ارکان کو بھی حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پیپلزپارٹی اور خود مسٹر بھٹو انتقامی سیاست کی راہ پر چل نکلے۔

صحافت میں سب سے پہلے نشانہ میں بنا کیونکہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن کی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے بعض ارکان کو منحرف کرا کر پیپلزپارٹی کی کوششوں کی سب سے پہلے خبر روزنامہ مشرق نے بریک کی تھی۔ عوامی لیگ کے چند ارکان صوبائی اسمبلی کو پیپلزپارٹی میں شامل کرنے کی غرض سے مشرقی پاکستان سے کراچی لا کر ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے کے بعد شام کو حاجی قاسم عباس پٹیل کی رہائش گاہ پر مسٹر بھٹو نے صحافیوں سے ملاقات کر کے تازہ سیاسی صورتحال اور پیپلزپارٹی کے موقف سے آگاہ کیا تھا۔

پریس کانفرنس کے بعد قاسم عباس پٹیل کی رہائش گاہ کے لان میں تنہائی ملتے ہی میں نے مسٹر بھٹو سے مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کی آمد اور پیپلزپارٹی میں شمولیت کے متعلق سوال کیا تو وہ بڑی حیرانگی کے ساتھ بری شکل بناکر مجھے دیکھنے لگے ان کے چہرے کے تاثر بتارہے تھے کہ مجھے یہ بات کیسے پتہ چلی۔ مسٹر بھٹو نے میرے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کی راہ اختیار کرنا چاہی لیکن میرے اصرار پر وہ بھڑک اٹھے اور میرے سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے مسٹر رضوی میں اس قسم کی باتیں سننے کا عادی نہیں ہوں لیکن میرے ترکی بہ ترکی جواب دینے پر دوسرے صحافیوں کو بھی بدمزگی کا علم ہوگیا۔ پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی کے ہفت روزہ صحافی رسالہ ‘‘الفتح’’ کے ارشاد راؤ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے رسالے میں اس واقعے سے متعلق بڑھا چڑھا کر مکمل جھوٹ پر مبنی رپورٹ شائع کر دی۔

سقوط ڈھاکا کے نتیجے میں مغربی پاکستان میں نئے پاکستان کے پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مقرر ہوئے، روزنامہ مشرق نیشنل پریس ٹرسٹ کی ملکیت تھا پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوتے ہی اس پر جیالے صحافیوں کا مکمل قبضہ ہوگیا۔ مشرق اور پاکستان ٹائمز نیشنل پریس ٹرسٹ کے انتہائی منافع بخش ادارے تھے جو پیپلزپارٹی کی صحافت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے غیر مستحکم ہونا شروع ہوگئے۔ نااہل اور غیر پیشہ ور صحافیوں کی اندھا دھند بھرتیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 1970 کی صحافیوں کی ہڑتال میں پی ایف یو جے کی پالیسیوں سے اختلاف کے نتیجے میں سب سے پہلے میرا تبادلہ کراچی سے لاہور کردیا گیا یہ سلسلہ تقریباً دو سال تک چلتا رہا اس دوران مجھے کوئٹہ، راولپنڈی، اسلام آباد پھر کراچی کی خاک چھاننی پڑی، اسلام آباد میں اکثر قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مسٹر بھٹو سے آمنا سامنا اور رسمی علیک سلیک ہوتی رہتی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات حفیظ پیرزادہ سے روزانہ ان کے آفس میں چائے کے کپ پر ملاقات ہوتی رہتی تھی لیکن انہوں نے بھی کبھی یہ معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی کہ میں کراچی سے اسلام آباد آنے پر خوش اور مطمئن ہوں یا نہیں۔ مولانا کوثر نیازی جو اس زمانے میں وزیر مذہبی امور تھے البتہ میری کیفیت سے آگاہ تھے لیکن وہ بھی میرے ان دیکھے مخالفین کے آگے بے بس نظر آتے تھے۔

مسٹر بھٹو کے بعد ضیا الحق کا دس سالہ دور اقتصادی لحاظ سے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات کے انتہائی خسارے کا زمانہ تھا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ روزنامہ مشرق کو نیشنل پریس کی انتظامیہ بند کرنے کا سوچ رہی تھی۔ 1980 میں تازہ تازہ لندن سے دل کی سرجری کرا کر واپس آیا تھا لندن قیام کے دوران وہاں کے اخبارات خاص طور پر شام کے اخبارات کا گہری نگاہ سے جائزہ لیتا تھا اور سوچتا تھا کہ اگر اللہ نے موقع دیا تو کراچی سے لندن کے اخبار دی سن، دی ٹائمز اور دی مرر کی طرز کا شام کا اخبار نکالوں گا۔

ضیاالحق کے دور میں جناب ضیا السلام انصاری روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بن گئے، انصاری صاحب سے انتہائی خوشگوار تعلقات روزنامہ کوہستان کے زمانے سے تھے۔ انصاری صاحب روزنامہ کوہستان کے چیف رپورٹر تھے۔ روزنامہ مشرق میں شمولیت کے بعد یہ تعلقات مزید مستحکم ہوگئے۔ انصاری صاحب کے چیف ایڈیٹر مشرق سے نیشنل پریس ٹرسٹ کی چیئرمین شپ کے دور میں ان کے ساتھ ذاتی تعلقات سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ ایوننگ اسپیشل کی زبردست کامیابی کے بعد چیئرمین نیشنل ٹرسٹ نے مشرق کراچی کو مالی خسارے سے نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کے معیار اور سرکولیشن کو بہتر بنانے کے لئے مجھے بیک وقت ایوننگ اسپیشل اور مشرق کراچی کا ریذیڈیٹ ایڈیٹر بنانے کی ہدایت کی۔ جناب ضیا السلام انصاری نے چیئرمین کی یہ ہدایت تقریباً تین سال اپنی میز کی دراز میں بند رکھی۔ لاہور میں جب کبھی کوئی ان کی توجہ اس طرف دلاتا تو ان کا صرف ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ مسٹر رضوی میرے بہت قریبی ہیں میں اس کو ترقی دے کر قربا پروری کا الزام نہیں لے سکتا۔ اس دوران روزنامہ ایوننگ اسپیشل اقتصادی طور پر نہ صرف خود کفیل ہوگیا بلکہ روزنامہ مشرق کراچی کا مالی بوجھ بھی کافی حدتک برداشت کرنے لگا۔

ایوننگ اسپیشل کی بڑھتی ہوئی سرکولیشن اور اس کی آزاد روش سے اس زمانے سندھ کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شاہجہان کریم سے خاصی بے چینی محسوس کرنے لگے۔ شاہ جہان اور میرے باہمی تعلقات میں تلخی اس حدتک بڑھ گئی کہ سندھ کی حکومت نے ایوننگ اسپیشل کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی۔ راتوں رات حکومت سندھ کے اس یکطرفہ فیصلے کا جب رات ڈیڑھ بجے علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر پابندی ختم کرنے اور وفاقی سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب کو ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر کراچی پہنچ کر حکومت سندھ اور ایوننگ اسپیشل کا تنازع حل کرائیں ۔ جنرل مجیب کی مداخلت پر شاہ جہان کریم کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، پاکستان کی صحافت کا یہ پہلا واقعہ تھا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کی ملکیت میں شائع ہونے والے سرکاری اخبار کی اشاعت پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی، یہاں تک کہ ضیا الحق نے کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہہ کہ سب کو حیران کردیا کہ ایوننگ اسپیشل ان کا اپنا اخبار ہے۔

ضیا الحق کی وفات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برسراقتدار آئی تو واجد شمس الحسن جیسے جیالے صحافی کو نیشنل پریس ٹرسٹ کا چیئرمین بنادیا گیا۔ واجد شمس الحسن میرے کالج کے زمانے کے ساتھی تھے ان کی وجہ شہرت اچھی نہ تھی، واجد شمس الحسن نے این پی ٹی کے چیئرمین بنتے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کو میرے اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مقبول شریف کو ایڈیٹر کے عہدوں سے ہٹا کر افسر آن اسپیشل ڈیوٹی بنادیا۔ صحافت کی دنیا کا یہ انوکھا واقعہ واجد شمس الحسن جیسا مسخرہ ہی کرسکتا تھا۔ میری جگہ پر مرحوم نظام صدیقی کو جو چند ماہ قبل تک مجھ سے ملازمت دینے کی منت و سماجت کرتے رہتے تھے ایڈیٹر بن گئے لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کو جلد ہی اپنے وزیر صحت امیر حیدر کاظمی کے ذریعے شمس الحسن اور نظام صدیقی کی سازش کا علم ہوا تو انہوں نے دوبارہ مجھے ایوننگ اسپیشل اور مشرق کا ایڈیٹر بنادیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top