تازہ ترین
کچھ اپنے بارے میں بھی۔۔۔!!

کچھ اپنے بارے میں بھی۔۔۔!!

کراچی: (11 فروری 2019) (علی اختر رضوی) 1939 میں نے غیر منقسم ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی مرکز لکھنو میں 5 اگست کو آنکھ کھولی ، گھر کا ماحول تعلیم ادب و صحافت میں رچا بسا تھا، قدرتی طور پر اس کا مجھ پر بھی اثر ہوا، ہم 8 بھائی بہن تھے سب سے بڑے بھائی علی مظہر رضوی لکھنو کیمونسٹ پارٹی کے سرگرم رہنما اور انگریزی کے مشہور اخبار پائینیر(pioneer) سے وابستہ تھے، ممتاز کمیونسٹ رہنما ڈاکٹر رشید جہاں، کیفی اعظمی، رشید احمد ایڈووکیٹ، نازش امروہی، ممتاز ناول نگار شوکت صدیقی اور شفیق اسماعیل بھائی جان کے قریبی ساتھیوں اور دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ اخبارات اور رسائل کی گھر پر بڑی تعداد آتی تھی جن کا مجھے بچپن سے ہی مطالعے کا شوق تھا جس نے بعد میں میری صحافتی زندگی کو پروان چڑھانے میں کافی مدد کی ۔ دسویں جماعت تک نہ صرف سیاست کی سوجھ بوجھ آگئی تھی بلکہ عملی طور پر بھی اس میں حصہ لیتا رہا ۔ سیاست میں عملی حصہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) سے شروع کیا ، این ایس ایف کی ابتدائی تشکیل اور اس کی پہلی کونسل کا رکن منتخب ہوا  این ایس ایف کی تشکیل میں سابق ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بے لوث مخلص اور طلبہ کا دکھ درد کا احساس رکھنے والے رہنماوں کا بھی تعاون حاصل رہا ۔

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ابتدائی عہدیداروں میں میڈیکل کالج کے عبدالودود، شیر افضل، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، امیر حیدر کاظمی اور جوہر حسین انتہائی متحرک طالبعلم رہنما صبغت اللہ قادری کے نام ناقابل ذکر ہیں ۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نظریاتی طور پر طلبہ کی بائیں بازو کی تنظیم تھی، اس کے بیشتر رہنما اور کارکن ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کی بہ نسبت نیشنل عوامی پارٹی سے رغبت رکھتے تھے ۔ 1956 میں کراچی میٹرک بورڈ کے سالانہ نتائج کی شرح بہت کم تھی اس زمانے میں پنجاب بورڈ کا ہر سال نتیجہ 70 سے 80 فیصد ہوتا تھا جبکہ کراچی بورڈ کے میٹرک کے نتائج کی شرح کبھی 15 سے 30 فیصد سے زائد نہ ہوئی لیکن 1956 میں یہ شرح انتہائی کم ہوکر صرف 13 فیصد رہ گئی تھی جس پر کراچی کے میٹرک کے طلبہ میں سخت بے چینی پیدا ہوئی ۔ امسال ضمنی امتحانات پر بھی پابندی لگادی گئی تھی، کراچی کے طلبہ نے میٹرک کے طلبہ کے نتائج کے نتیجے میں ہونیوالے قتل عام کے خلاف پہلی آواز صبغت اللہ قادری نے بلند کی اور انہوں نے تن تنہا میٹرک کے ناکام طلبہ کا اجلاس اردو کالج کے احاطے میں طلب کیا اس میں خلاف توقع ناکام طلبہ کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی ۔

اس اجلاس میں علی اختر رضوی (یعنی مجھے) ناکام طلبہ کی الیکشن کمیٹی کا متفقہ طور پر کنوینر منتخب کیا گیا ۔ ہائی اسکول ایکشن کمیٹی نے صبغت اللہ قادری کی قیادت میں اس وقت کے وفاقی وزیر تعلیم جناب حبیب الرحمن جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا ملاقاتیں کرکے ناکام طلبہ کے لئے ضمنی امتحانات کے انعقاد کا مطالبہ تسلیم کرایا ۔ الیکشن کمیٹی کی اس کامیابی سے کراچی کے تعلیمی اداروں خاص طور پر کالجز میں این ایس ایف کی جڑیں مضبوط ہونا شروع ہوگئیں ۔ این ایس ایف کے کارکن دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم و تشدد کے واقعات ہوتے سراپا احتجاج بن جاتے ، اپنے غم و غصہ کا اظہار عموماً ڈائو میڈیکل کالج میں احتجاجی جلسہ یا جلسوس نکال کرکرتے ۔ ان دنوں افریقا کے پسماندہ اور غریب عوام میں نوآبادیاتی نظام اور غیر ملکی صنعتی و اقتصادی اجارہ داری کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوچکا تھا ۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران میں بھی ڈاکٹر مصدق کی قیادت میں شہنشاہ ایران کی جابر حکومت کے خلاف جدوجہد جاری تھی ۔

این ایس ایف کا رجحان چونکہ بائیں بازو کی طرف تھا ا سلیئے وہ دنیا بھر کی ترقی پسند آزاد تحریکوں کی حمایت میں پیش پیش رہتی تھی ۔ افریقا کے نو آزاد ملک کانگو کو مغربی استعاریت سے نجات دلانے والے رہنما لوممبا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تو این ایس ایف کے کارکنوں نے ڈائو میڈیکل کالج میں احتجاجی جلسے کے بعد جلوس نکالنے کی کوشش کی جس کو پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کرکے ناکام بنادیا ۔ پولیس کارروائی سے درجنوں طلبہ زخمی ہوئے، اس واقعے کے چند مہینوں بعد بھارت کے شہر جبلپور میں زبردست مسلم کش فسادات ہوئے جس میں سیکڑوں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کردیا گیا، اس واقعے پر این ایس ایف کی طرف سے فوری کسی قسم کا ردعمل نہیں ظاہر کیا گیا جس پر اسلامی جمعیت طلبہ اور دوسری دائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے این ایس ایف کو زبردست تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ دوسری طرف این ایس ایف کراچی انتظامیہ کے سخت رویے کی بنا پر خاموشی کیساتھ یوم جبلپور منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔ آخر کار اس نے یوم جبلپور منانے کا اعلان کرتے ہوئے ایس ایم آرٹس کالج سے مرکزی احتجاجی جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ دوسری طرف کراچی انتظامیہ نے شہر میں نقص امن کے اندیشے کے تحت دفعہ 144 نافذ کردی ۔ رات گئے کمشنر کراچی اور این ایس ایف کے بعض لیڈرز کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں احتجاجی جلسہ اور جلوس کا پروگرام منسوخ کریا گیا۔  کالجز کے طلبہ کی بھاری اکثریت نے دباو کے تحت منعقد ہونے والے مذاکرات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، شہر کے تمام کالجز کے طالب علم ہزاروں کی تعداد میں ایس ایم کالج اور اس کے نواح میں واقع سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہوگئے۔

احتجاجی جلسہ کی قیادت شعلہ بیاں مقرر این ایس ایف کے نڈر کارکن علی مختار رضوی نے سنبھالی اور اپنی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالتے ہوئے بزنس روڈ کی طرف مارچ کرنا شروع کردیا ۔ پولیس کی بھاری تعداد نے اندھا دھند آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرکے احتجاجی جلوس کو منتشر کرنے کی کوشش کی ، دیکھتے ہی دیکھتے برنس روڈ سے ریگل چوک تک تمام علاقے میں پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں، اگر یہ کہا جائے کہ یوم جبلپور پر کراچی میں پولیس کا طلبہ پرتشدد 8 جنوری 1953 کے واقعے کے بعد دوسرا بڑا واقعہ ہے تو غلط نہ ہوگا اس کے نتیجے میں این ایس ایف کراچی کے تعلیمی اداروں میں طلبا کی سب سے بڑی منظم تنظیم بن گئی جو ایوب خان کی آمریت کے لئے خطرہ بن رہی تھی چنانچہ این ایس ایف کی تقریباً تمام مرکزی قیادت اور سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلاکر سزائیں اور کراچی بدری کے احکامات جاری کردیئے گئے ۔ ایوب خان کی جبرو تشدد کی پالیسی کے نتیجے میں وقتی طور پر این ایس ایف کی کراچی میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں لیکن صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے مقابلے پر محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی امیدوار بننے سے این ایس ایف سے تعلق رکھنے والے طلبہ پھر سے سرگرم عمل ہوگئے اور انہوں نے محترمہ کی انتخابی مہم میں ایوب خان کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیا۔ اس عرصے میں میں کراچی سے پہلے کوئٹہ پھر لاہور منتقل ہوگیا، کوئٹہ میں قیام کے دوران ملک کی دوسری بڑی خبر رساں ایجنسی پی پی آئی میں بحیثیت نامہ نگار ملازمت اختیار کی جہاں سے 1960 میں لاہور منتقل ہوگیا ۔

لاہور میں قیمام صحیح معنوں میں میری صحافتی زندگی کا اہم ترین دور تھا اس زمانے میں لاہور ملک کی صحافت کا اہم ترین مرکز تھا پاکستان ٹائمز، امروز، سول اینڈ ملٹری گزٹ، نوائے وقت اور روزنامہ کوہستان کا شمار ملک کے کثیر الاشاعت اخبارات میں ہوتا تھا ۔ ان اخبارات میں کام کرنے والے سید امجد حسین، محترمہ میاں محمد شفیع المعروف م ش، ضیا السلام انصاری، ممتاز احمد خان، ظہور عالم، شہید عبداللہ ملک پی پی آئی کے میر عبدالحق جیسے سکہ بند صحافی رپورٹنگ کے شعبے سے وابستہ تھے ۔ آج صحافت میں تقریباً 58 سال خدمت انجام دینے پر جو مقام حاصل کیا وہ ان سب افراد خاص طور پر جناب ضیا السلام انصاری کی عملی رہنمائی کا صلہ ہے ۔ اس طویل مدت میں پاکستان کی سیاست کے تمام اہم واقعات کی نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ حسین شہید سہروردی، خواجہ نظام الدین، شیخ مجیب الرحمن، مولانا عبدالحمید بھاشانی، خان عبدالغفار خان ان کے صاحبزادے خان عبدالولی خان، مولانا مفتی محمود، ذوالفقار علی بھٹو، ایئر مارشل اصغر خان، محمود الحق عثمانی، جناب نور الامین اور ان سب سے بڑھ کر مادر ملت جناب محترمہ فاطمہ جناح سے انٹرویو کرنے والا واحد خوش نصیب صحافی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 1968 میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات میں محترم ایس آر غوری کے پینل سے جوائنٹ سیکریٹری کے انتخاب میں حصہ لیا بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکےسینئر جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوا یہ وہ دور تھا جب ایوب خان کی حکومت کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوچکی تھی ملک کے تمام قابل ذکر سیاسی رہنماوں نے اپنی سرگرمیوں کا محور کراچی کو بنایا ہوا تھا ۔

Comments are closed.

Scroll To Top