تازہ ترین
افغان طالبان اور امریکا کے درمیان دس مرتبہ خفیہ مذاکرات ہوئے، روس

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان دس مرتبہ خفیہ مذاکرات ہوئے، روس

ماسکو: (14 نومبر 2018) روس کے صدارتی ایلچی نے کہاہےکہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان دس مرتبہ خفیہ مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن تاحال جنگ کے خاتمے کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے۔ ضمیر کابوکوف کہتے ہیں ماسکوکی کوشش ہے کہ عسکریت پسند اور کابل بغیر کسی شرط کے امن مذاکرات کریں۔

امریکی ٹی وی کےمطابق روس کے صدارتی ایلچی ضمیر کابولوف نے دارالحکومت ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم کروا کر فوج کو واپس بلوالیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا قطر کے دارالحکومت دوحا میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر میں موجود رہنماؤں سے دس مرتبہ خفیہ مذاکرات کرچکا ہے لیکن صرف دو ملاقاتوں کو ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی صدارتی ایلچی نے متعدد بار کابل اور قطر میں طالبان سے مذاکرات کئے ہیں۔ضمیر کا کہنا تھا کہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد آئندہ ماہ ماسکو آئیں گے جہاں وہ افغانستان میں امن سے متعلق مذاکرات کریں گے۔ اس سے پہلے ضمیرنے اعلان کیا کہ حالیہ مذاکرات میں طالبان نے امن بات چیت کیلئے دو ہزار سات سے لگائی گئیں سفری پابندیاں ہٹانے، تمام قیدی رہا کرنے اور افغان سرزمین سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکا اور روس، افغانستان اور طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں

کابل: افغان امن شوریٰ نے طالبان سے امن مذاکرات کیلئے وفد کی تشکیل کا آغاز

Comments are closed.

Scroll To Top