تازہ ترین
موسمیاتی تبدیلیوں سے ایشیائی ممالک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

موسمیاتی تبدیلیوں سے ایشیائی ممالک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

فلپائن: (14 جولائی 2017) ایشیائی ترقیاتی بنک نے خبردار کیا ہے کہ صدی کے آخر تک ایشیاء میں درجہ حرارت میں 8 سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو جائیگا۔ 2050ء تک موسمیاتی تبدیلیوں سے آنے والے سیلابوں سے پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کو سالانہ 50 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اے ڈی بی نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے ایشیائی ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اس صدی کے آخر تک شدت اختیار کر جائیں گے۔ ایشیائی ممالک میں درجہ حرات 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گا۔ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور شمالی چین شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے ایشیاء میں ترقی کی شرح متاثر ہوگی اور جو ترقی حاصل کی گئی ہے اس کے اثرات بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے زرعی پیداوار نہ صرف کم ہوگی بلکہ عوام کی پہنچ سے دور بھی ہو جائیں گی، جبکہ آندھی اور طوفانوں میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ عوام میں صحت کے مسائل بڑھ جانے کا بھی خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں بارشیں 20 سے 50 فیصد تک کم ہوجائیں گی۔ جبکہ 2050ء تک سیلابوں سے سالانہ بنیادوں پر 50 ارب ڈالرز کے نقصانات پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انٹارکٹکا میں 1 ارب ٹن وزنی برف کا پہاڑ ٹوٹ گیا

سرگودھا میں چکن پاکس کے ڈیرے، سرکاری اسپتال کی حالت غیر تسلی بخش

 

Comments are closed.

Scroll To Top