تازہ ترین
شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

لاہور:(06دسمبر،2018)احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 13 دسمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلی پنجاب کو آج ساتویں بار جج نجم الحسن کے روبروپیش کیا گیا، جہاں نیب پراسیکوٹرنے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف سے تفتیش کا عمل جاری ہے، انکے جسمانی ریمانڈ میں پندرہ روز کی توسیع کی جائے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جس پر وکیل شہباز شریف نے مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کا 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے، ہر چیز کلیئر ہے، تمام ریکارڈ بھی ٹیکس میں ہے، عدالت سے غلط بیانی کر کے نیب نے ریمانڈ لیا تھا، ٹیکس قوانین میں تحائف کا ذکر کرنا ضروری نہیں تھا، ذاتی 20 کروڑ کی اراضی کی رقم سے تحائف دیئے، تحائف آمدنی سے زائد نہیں ہیں۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو تیرہ دسمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا ہے۔

اس سے قبل نیب ٹیم سخت سیکیورٹی میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو لیکر احتساب عدالت پہنچی تو احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنان کی کثیرتعداد موجود تھی۔]اس موقع پر کارکنان کی جانب سے شہباز شریف اور نواز شریف کے حق میں شدید نعرے بازی کی گئی، جبکہ کئی کارکنان شہباز شریف کو لانے والی نیب کی گاڑی پر چڑھ گئے،صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولیس کی جانب سے کارکنان کو گاڑی سے اترنے کی وارننگ دی گئی، جسے کارکنان نے نظرانداز کیا۔

جس پر پولیس نے لیگی کارکنان پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں منشتر کرنے کی کوشش کرتے رہے،بعد ازاں پولیس لیگی کارکنان کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوئی،اس موقع پر کئی لیگی کارکنان زخمی بھی ہوئے اور متعدد کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔اس موقع پر مریم اورنگزیب سمیت سابق ترجمان ملک احمد خان سمیت اہم لیگی رہنما بھی موجود تھے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم پی اے شوکت سہیل بٹ اور شائستہ پرویز ملک سمیت دیگر لیگی ارکان اسمبلی اپنے ہمراہ کارکنوں کو لے کر آئے تھے ، لیگی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو جوش دلایا جاتا رہا اور آگے بڑھنے کیلئے اکسایا جاتا رہا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

واضح رہے کہ اٹھائیس نومبر کو بھی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں چھ دسمبر تک توسیع کی تھی۔اس سے قبل نیب حکام راہداری ریمانڈ کی میعاد ختم ہونے پر شہباز شریف کو نیب لاہور میں لائے، جہاں انہیں جج سید نجم الحسن کے روبرو پیش کیا گیا۔

نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ اور اسد اللہ جبکہ شہباز شریف کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے آغاز پر جج نجم الحسن نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کا کتنے دن کا ریمانڈ ہوچکا ہے؟،جس پر نیب حکام نے بتایا کہ شہباز شریف 54 روز سے تحویل میں ہیں، تاہم سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے تصحیح کی کہ 55 دن ہوچکے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے مزید استفسار کیا کہ 55 روز ہوگئے، کیا تفتیش مکمل نہیں ہوئی؟،جس پر نیب حکام نے جواب دیا کہ کافی سارے دن قومی اسمبلی کا اجلاس بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے تفتیش نہیں ہوسکی،تاہم شہباز شریف نے کہا کہ اس دوران بھی تفتیش ہوتی رہی اور انہیں سوالنامہ دیا گیا تھا۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اُن پر بطور وزیراعلیٰ قومی خزانے کو کڑوروں کا نقصان پہچانے کا الزام ہے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ انھوں نے کوئی کرپشن کی ہے بلکہ جو گفٹس دیئے گئے ہیں ہم ان کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق حمزہ شہباز شریف کو 2011 میں جو گفٹ دیئے گئے، اس کا ریکارڈ موجود نہیں، ٹیکس ریٹرن ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ 6 کروڑ کے گفٹ کیسے دیئے؟

جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر آشیانہ کیس کی بات کریں کہ اس میں کیا بے ضابطگی ہے،شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ آشیانہ اقبال کیس کے حوالے سے ہونے والی میٹنگز میں شریک افراد سے سامنا نہیں کروایا گیا۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے بیان ریکارڈ ہوچکے ہیں،تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی تمام لوگوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔

دوران سماعت شہباز شریف کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں،شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کے موکل کو کینسر ہے۔

جس پر نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ شہباز شریف کے لیے میڈیکل اسپیشلسٹس پر مشتمل بورڈ بنانے کا کہا گیا ہے، میڈیکل کے حوالے سے انہیں جیسا بھی ٹریٹمنٹ چاہیے وہ دینے کے لیے تیار ہیں۔جس پر شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تمام میڈیکل ٹیسٹ اور چیک اپ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ہو رہا ہے، لہذا عدالت پمز میں علاج جاری رکھنے کا حکم دے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوسری جانب نیب حکام کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں زیر حراست سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں طبی معائنہ کرایا گیا۔

ذرائع کے مطابق نو ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا اور ان کی بلڈ رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے،ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو پمز میں ٹیسٹ کے فوری بعد طبی معائنے کے لیے لایا جانا چاہیے تھا۔دوسری جانب شہباز شریف نے کہا کہ نیب نے متعدد بار کہنے کے باوجود بورڈ ایک ہفتے تاخیر سے تشکیل دیا،جس پرترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے لیے میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تاخیر پر تشویش ہے، فوری توجہ نہ دینے پر صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کیا کہہ رہے ہیں کیا کررہے ہیں کیا سوچ رہے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتا،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گرانے کے لیے وزیراعظم اور اُن کی ٹیم کی قابلیت ہی کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف کے سینے میں گلٹیوں کی موجودگی کا انکشاف

نواز شریف کا شہباز کی صحت پر تشویش کا اظہار

Comments are closed.

Scroll To Top