تازہ ترین
العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی

اسلام آباد:(12اکتوبر، 2018)احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت وکیل صفائی اورنیب پروسیکیوٹر کی عدم حاضری کے باعث بغیر کارروائی کےملتوی کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کابیان ریکارڈ اورنیب کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں شواہد سے متعلق عدالت کا آگاہ کیا جانا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس موقع پر سابق وزیر اعظم نوازشریف اورپاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا عدالت میں پیش ہوئے،تاہم وکیل صفائی خواجہ حارث اور نیب کے پروسیکیوٹرسردارمظفر عباسی سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت پیش نہ ہوسکے۔

دوران سماعت خواجہ حارث کے معاون وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہم واجد ضیاء کا بیان خواجہ حارث کی موجودگی میں ریکارڈ کرواںاچاہتے ہیں،جبکہ استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں شواہد مکمل ہونے سے متعلق بیان نیب پروسیکیوٹرہی دیں گے،جس پر عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔گذشتہ سماعت کے موقع پر نیب کی جانب سے ملزم نوازشریف کا تین سو بیالیس کے تحت بیان قلمبند کرنے کی استدعا کی گئی، جس کی خواجہ حارث نے شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ریفرنسز میں بہت سارا حصہ مشترکہ ہے،کیا وجہ ہے کہ استغاثہ ملزم کا العزیزیہ میں پہلے بیان ریکارڈ کیا جائے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ پہلے طے ہوا تھا کہ واجد ضیاء کا بیان دوسرے ریفرنس میں بھی پہلے مکمل کیا جائے گا،ملزم کے 342 کے بیان کی طرف ابھی نہیں بڑھ سکتے، خدا کا واسطہ ایسا نہ کریں، میں اور نیب پراسیکیوٹر تقاریر کرکے چلے جائیں گے، مگر عدالت نے دونوںکیسز کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

گذشتہ روز سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسر محبوب عالم پر جرح کی، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ کمپنیز شیئرز کی تقسیم سے واقفیت رکھنے والے کسی فرد کا بیان قلمبند نہیں کیا، ایس ای سی پی سے مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز کا ریکارڈ حاصل کیا تھا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا ک شریف خاندان کی کون سی کمپنیاں بند ہوچکیں، کون سی کمپنیاں آپریشنل ہیں، اس حوالے سے بھی تحقیقات نہیں کیں، کسی گواہ نے نہیں کہا کہ حسین اور حسن نے ایچ ایم ای میں نواز شریف کی معاونت کی۔انہوں نے بتایا کیا کہ نواز شریف کے قوم سے خطاب کی ڈی وی ڈی بنانے والے کا بیان قلمبند نہیں کیا، قوم اور قومی اسمبلی سے خطاب کی ڈی وی ڈی بنانے والے کا نام بھی معلوم نہیں،تفتیشی افسر کے مطابق العزیزیہ اسٹیل ملز کب قائم ہوئی، کسی گواہ نے نہیں بتایا نہ العزیزیہ اسٹیل کے قیام کے لیے اسپانسر فنڈنگ کا بھی نہیں بتایا۔ ایس ای سی پی سے مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز کا ریکارڈ حاصل کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے العزیزیہ اور ہل میٹل کے اندر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، العزیزیہ، ہل میٹل کے لیے فنڈ حسین نواز نے دیے یہ بھی کسی گواہ نے نہیں بتایا۔ تمام افراد نے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل مل میاں شریف نے قائم کی،خواجہ حارث نے پوچھا کہ تفتیش میں کسی ایسے شخص کو شامل کیا جو شیئرز کی تقسیم سے واقف تھا؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ایسے کسی شخص کو شامل تفتیش نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا ہے کہ میں نے آزادانہ تفتیش نہیں کی اور صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر انحصار کیا۔ صرف جے آئی ٹی کی ریفر کی گئی دستاویزات پر ریفرنس تیار نہیں کیے،تفتیشی افسر نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے کوئی متعصبانہ تفتیش کی یا طے شدہ منصوبے کے تحت نواز شریف کو کیس میں پھنسایا، نواز شریف نے کسی خطاب یا جے آئی ٹی میں خود کو کمپنیز کا مالک نہیں کہا۔

دوران سماعت تفتیشی افسر پر جرح مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں ملزم کا 342 کا بیان قلمبند کرلیا جائے، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ 342 کا بیان شروع کیا گیا تو کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے،انہوں نے عدالت میں استدعا کی کہ پہلے فلیگ شپ ریفرنس میں واجد ضیا کا بیان قلمبند کیا جائے، جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ سے ٹائم فریم آجائے تو مستقبل سے متعلق طے کر لیں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

العزیزیہ ریفرنس میں پانچ اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے آغاز پر خواجہ حارث نے کہا کہ اکرم قریشی نے کل کہا تھا کہ عائشہ حامد کو یہاں پلانٹ کررکھا ہے، وہ سینئروکیل ہیں انہیں کوئی کیوں اورکس مقصد کے لیے پلانٹ کرے گا،جس پر پراسیکیوٹرواثق ملک نے کہا کہ اکرم قریشی یہاں تھے ان کے سامنے یہ بات ہوتی تواچھا تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ عائشہ حامد موجود بھی نہیں تھیں جب ایسے کلمات کہے گئے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹرکا کیا کام کہ وہ یہاں سیاسی بیانات دیں، اکرم قریشی نے کہا ہمارے خلاف ٹی وی پرخبرچلی، ہم یہاں ذاتی تشہیر کے لیے نہیں آتے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ حارث ہمارے خلاف بھی ذاتی ریمارکس دیتے رہے ہیں، میں نے کئی بارگزارش کی خواجہ صاحب ذاتی ریمارکس نہ دیں۔معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ عائشہ حامد اور اکرم قریشی دونوں نہیں ہیں، پیرکے دن اس معاملے کودیکھ لیتے ہیں، بعد ازاں تفتیشی افسرنے ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے لکھے گئے یاددہانی خطوط پیش کئے، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب تونہیں آیا مگرہماری کوششیں آپ کے سامنے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کہا کہ یہ خطوط ملزمان کوفراہم کرنے میں تواب کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، ان خطوط میں تو ایسی کوئی رازداری والی بات نہیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ طے یہ ہوا تھا کہ ہم عدالت میں خطوط پیش کریں گے، عدالتی اختیارہے وہ خطوط ملزمان کوفراہم کرنے سے متعلق جوبھی فیصلہ کرے، بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

گذشتہ روز سماعت کے دوران نیب پراسکیوٹر اور خواجہ حارث کے مابین گرما گرمی ہوئی تھی،جس کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر کو نیب سے مطلوبہ ریکارڈ سے متعلق لکھے گئے یاددہانی خطوط کی نقول پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی تھی۔

اس سے قبل  تفتیشی افسر محبوب عالم نے عدالتی حکم پر نیب اور ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ سے متعلق لکھے گئے خط کی نقول عدالت میں پیش کیں۔ خواجہ حارث نے جرح کے دوران پوچھا کہ کیا آپ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تصدیق کو قانون شہادت پر پرکھا تھا؟ اور کیا اس پر تصدیق کنندہ کا نام موجود تھا؟نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا کہ کیا ہم سپریم کورٹ سے پوچھیں گے کہ کس نے تصدیق کی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سوال تو ہم ان ہی سے پوچھیں گے۔ انہوں نے ہمارے خلاف شواہد پیش کیے۔

تفتیشی افسر نے نیب پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے تمام متعلقہ ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کیلئے ایک ہی خط لکھا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ کا خصوصی طور پر ذکر نہیں کیا۔ رپورٹ وصولی کے وقت نوٹس میں آیا کہ کسی بھی کاپی پر نہیں لکھا گیا کہ کب مانگی گئی اور کب جاری ہوئی۔ تصدیق کنندہ کا نام اور تاریخ بھی درج نہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ متفرق درخواستوں کے ساتھ منسلک دستاویزات سپریم کورٹ سے تصدیق شدہ نہیں۔ ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ سے کیا گیا ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ کل آپ لوگوں نے ایف آئی اے اور نیب کو لکھے گئے خط سے متعلق جھوٹ بولا۔ جس پر  نیب پراسکیوٹر اور خواجہ حارث کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اکرم قریشی نے کہا کہ آپ کے موکل جھوٹے ہیں۔ پورا ملک لوٹ کر کھا گئے اور کہتے ہیں کہ معصوم ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ آپ یہاں سیاست کر رہے ہیں، فیصلے سے پہلے فیصلہ سنا رہے کہ ہم جھوٹے اور چور ہیں۔ ہم آپ کے خلاف درخواست دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلم لیگ (ن) کا سندھ کے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان

اسحاق ڈار کی جائیداد نیلامی سے متعلق تفتیشی افسر کی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top