تازہ ترین
العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی

العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد: (19 ستمبر 2018 ) العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت نے سعودی حکام کو جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے ایم ایل اے کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظور کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج سماعت کے آغاز پر نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ اگر پورا دن مل گیا تو واجد ضیا پر آج جرح مکمل کرلوں گا جبکہ نیب نے گذشتہ روز بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے دلائل مکمل نہیں کئے اور آج تک کی مہلت مانگ لی ہے اس لیے آج پھر ہائی کورٹ جانا ہے اگر جرح کے بجائے ایم ایل اے سے متعلق ہی درخواست پر دلائل سن لیں ؟

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جس پر جج نے خواجہ حارث کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جتنی جرح ابھی ہو سکتی ہے کرلیں باقی ہائی کورٹ سے واپس آکر کر لینا، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ خواجہ حارث اڑھائی تین ماہ سے ایک ہی گواہ پر جرح کر رہے ہیں۔خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ نیب پراسیکیوٹر کی وجہ سے جرح لمبی ہو رہی ہے، کبھی یہ بلاوجہ اعتراضات کرتے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ بھاگ جاتے ہیں، نیب میری جرح ختم کرنے کی بھی درخواست دائر کر دے۔

جس پر جج نے دس منٹ کا وقفہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ریلیکس ہو جائیں پھر سماعت شروع کرتے ہیں۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ طے یہ ہوا تھا کہ خواجہ حارث آج اپنی جرح ختم کریں گے۔ خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے پورا دن مل جائے تو میں جرح ختم کرلوں گا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو خواجہ حارث نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کی،خواجہ حارث نے دریافت کیا کہ کیا اپ ہینڈنگ اور ٹیکنگ اوور کی فہرست دکھا سکتے ہیں جس پر واجد ضیا نے ریکارڈ میں سے فہرست نکال کر دکھا دی۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات 24 جولائی 2017 سے پہلے سپریم کورٹ میں جمع ہوئیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ والیم 9 اور 9 اے کی دستاویزات بھی آپ پہلے جمع کروا چکے تھے،خواجہ حارث نے کہا کہ ایم ایل اے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے دلائل کے بعد دستاویزات کی فہرست کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا،بعد ازاں احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ اگلی سماعت پر بھی خواجہ حارث واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گےواضح رہے کہ گذشتہ سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سعودی حکام کو لکھے گئے ایم ایل اے کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے پر دلائل مکمل کیے تھے۔

گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے موقع پر بیگم کلثوم نواز کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی،دعا کے دوران سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے، بعد ازاں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ امید ہے ہائی کورٹ میں دلائل مکمل ہو جائیں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ امید ہے ہم ہائی کورٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،بعد ازاں معزز جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس کی سماعت ملتوی کردی تھی۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا جائے گا،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب پانامہ کا 28 جولائی کا فیصلہ آیا تو وہ تمام ججز پر بائینڈنگ تھا اور پہلا فیصلہ بائنڈنگ نہیں قرار دیا جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا پانامہ پر دوسرا فیصلہ تسلسل ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پانامہ کا 28 جولائی کافیصلہ تمام ججز نے دستخط کیے۔ جسٹس میاں گل حسن نے کہا پہلے فیصلے میں نااہلی نہیں ہوئی اور وہ فیصلہ منارٹی ججز کا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ معمولی کیس نہیں، پیسے لیے اور جیب میں ڈالنے سے متعلق کیس نہیں بلکہ لاتعداد کمپنیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔اکرم قریشی نے کہا کہ اس کیس کو اتنے مختصر وقت میں تفتیش کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اس مرحلے پر عدالت کا کوئی بھی تبصرہ مناسب نہیں ہوگا جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بہت اچھی بات کہی آپ نے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں،لندن اپارٹمنٹس کا قبضہ بچوں کے پاس تھا، باپ بچوں کا فطری سرپرست ہے جس کے قبضے میں جائیداد ہے ملکیت کا بار ثبوت اس پرہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا والد اور سرپرست ہونے کی وجہ سے بار ثبوت ان پر ہے اور یہ کہتے ہیں حسن اور حسین ہی بتا سکتے ہیں، اخراجات ریکارڈر پر نہیں ہیں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ آمدن سے متعلق چارٹ واجد ضیاء نے پیش نہیں کیا، تفتیشی افسر نے بھی کہا تھا معلوم نہیں یہ چارٹ کس نے تیار کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اب مفروضے پر فوجداری قانون میں سزا سنا دیں، یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میری اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے، دو گھنٹے سے زائد کھڑا نہیں ہوسکتا، سماعت کل تک ملتوی کردیں، کل عدالت کی معاونت کردوں گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایک گھنٹے میں دلائل دے دیں گے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا میں کل صرف 30 منٹ لوں گا جس پر جسٹس گل حسن نے کہا ہم آپ کو بیٹھنے کے لیے کرسی دے دیتے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کرسی پر بیٹھے رہنے سے پاؤں پھر بھی وزن پڑتا ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم پہلے ہی وقت ضائع کر چکے ہیں تاہم بیماری پر اعتراض نہیں کرسکتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ انتہائی اہم کیس ہے، آج ختم کردیتے تو اچھا ہوتا، اس کیس کے لیے ہم پورا دن لیتے ہیں۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر چیز کی حد ہوتی ہے، آپ نے تحریری دلائل دے دیے ہیں، کل اگر آپ نہ بھی آئے تو ہم ان دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سنادیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا کہ آپ نے بہت اچھے دلائل دے دیے ہیں، اگر آپ کل نہ بھی ہوئے تو جہانزیب بھروانہ دلائل دیں گے اور کل دلائل مکمل نہ ہوئے تو پھر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ موخر

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top