تازہ ترین
ورلڈ الیون ٹیم،کون ساغیرملکی کھلاڑی کب پاکستان آیا

ورلڈ الیون ٹیم،کون ساغیرملکی کھلاڑی کب پاکستان آیا

تحریر :یاسرباجوہ

ورلڈ الیون کی ٹیم میں شامل 3 انٹرنیشنل کھلاڑی ایسے ہیں جو پاکستان کے میدانوں میں پہلے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ انگلینڈ کے پال کالنگ وڈ 2005 میں، جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ 2007میں جبکہ بنگلہ دیش کے تمیم اقبال نے 2008 میں دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ویسٹ انڈیز ٹیم اور پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی واحد پلیئر ہیں جو رواں برس قذافی اسٹیڈیم میں 5 مارچ کو ہونے والے پی ایس ایل فائنل معرکے کی یادیں تازہ کریں گے۔لاہور میں پیدا ہونے والے عمران طاہر کو اپنی ہوم گراؤنڈ میں صلاحیتیں منوانے کا موقع ملے گا۔

جنوبی افریقہ اور ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی سمیت دیگر پلیئر گرانٹ ایلیٹ،مورنے مورکل، ڈیوڈ ملر، تھسارا پریرا، سیمیول بدری، جارج بیلی، بین کٹنگ، ٹم پین پہلی بار قذافی اسٹیڈیم میں جلوہ گر ہوں گے۔

سری لنکن ٹیم پر حملے سے قبل دورہ کرنے والے انگلش کرکٹرپال کالنگ وڈ جنھوں نے 2005 میں مائیکل وان کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا۔ جنوبی افریقین ٹیم کے اوپنر بلے باز ہاشم آملہ 2007 میں اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ بنگلہ دیشی سٹار بیٹسمین تمیم اقبال 2008میں 2مرتبہ پاکستان آئے تھے۔

ویسٹ انڈیز ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی ورلڈ الیون میں شامل واحد کھلاڑی ہیں جو چند ماہ قبل بھی پاکستان میں کرکٹ کھیل چکے ہیں۔انہوں نے رواں برس قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے پی ایس ایل 2 کے فائنل معرکے میں اپنا رنگ جمایا لیکن انہیں کبھی پاکستانی سرزمین پرانٹرنیشنل میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔گراؤنڈ میں منفرد اسٹائل سے بھی ڈیرن سیمی نےپاکستانی شائقین کے دلوں پر راج کیا۔

لاہور میں پیدا ہونے والے جنوبی افریقہ کے لیجنڈ لیگ اسپنر عمران طاہر بھی ورلڈ الیون کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز پاکستان سےکیا۔عمران طاہر پاکستان انڈر19 اور پاکستان اے کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں لیکن قومی ٹیم میں جگہ نہ ملنے کے باعث کاؤنٹی کرکٹ کا رُخ کیا ۔بعدازاں جنوبی افریقہ میں سکونت اختیار کر لی اور 2011 میں انہیں جنوبی افریقن ٹیم کی طرف سےکھیلنے کا موقع ملااور اپنی شاندار پرفارمنس سے نہ صرف ٹیم میں جگہ بنائی بلکہ دنیائے کرکٹ کے نمبر ون لیگ اسپنر کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

ورلڈ الیون کے اسکواڈ میں شامل اسٹارکھلاڑی نہ صرف پاکستان کے ویران میدان آباد کرنے آ رہے ہیں بلکہ پاکستانی شائقین کو ہوم گراؤنڈ میں لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

عمراکمل پاکستان کرکٹ کابگڑا بچہ

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

Comments are closed.

Scroll To Top