تازہ ترین
تیرے جانے کے بعد۔۔۔

تیرے جانے کے بعد۔۔۔

نیب کے چیئرمین جناب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا پاکستان کے قابل ترین وکلا جج میں شمار ہوتا ہے ان کی عملی زندگی ملک میں پائی جانیوالی ہر قسم کی برائیوں سے پاک رہی ہے لیکن جب سے وہ احتساب بیورو کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں ان کے ادارے کے بعض نااہل کینہ پرور اور سیاست زدہ اہلکاروں کی وجہ سے ان کی شخصیت دن بدن متازع بنتی جارہی ہے ۔ قانون کی حکمرانی کے اصول کو تسلیم کرنے والا شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ وہ حالات اور وقتی مصلحتوں کا شکار ہوکر اپنی زندگی کے قیمتی اصولوں کو حالات کے جبر کے تحت پامال کرسکتا ہے ۔ انسانی حقوق کے قومی کمیشن کے حوالے سے انگریزی کے ایک انتہائی معتبر معاصر میں کمیشن اور نیب کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر نے آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کو ہلاکر رکھ دیا ، خبر کے مطابق نیب کمیشن کے ارکان کو اپنی حوالات کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔کمیشن کے ارکان نے یونیورسٹی کے پروفیسر کی نیب کی تحویل میں ہلاکت کے واقعے اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کرنے کی غرض سے نیب کے چیئرمین کو باضابطہ تحریری درخواست دی تھی کہ کمیشن کو نیب کے عقوبت خانوں کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، نیب کے چیئرمین نے تین ماہ گزر جانے کے باوجود کمیشن کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا نیب کے چیئرمین کی یہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔جسٹس جاوید کے نیب کے چیئرمین مقرر ہونے کے بعد ہر پاکستانی کو یہ توقع تھی کہ اب بدعنوان سیاستدانوں اور اہلکاروں کا نہ صرف غیر جانبدارانہ احتساب ہوگا بلکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا لیکن پنجاب میں صاف پانی منصوبے میں گرفتار شدہ الخیر قمر السلام اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو جس بھونڈے اور سیاسی جانبداری کے ساتھ ملوث کرنے کی کوشش کی گئی اس کا اندازہ پنجاب ہائیکورٹ کے صاف پانی کیس کے فیصلے کو پڑھ کر ہوسکتا ہے۔ تازہ مثال سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاوسنگ اسکیم میں ضمانت کی رہائی کا عدالتی حکم ہے، شہباز شریف کا رمضان شوگر مل کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ چیف ایگزیکٹو حمزہ شہباز کو آزاد چھوڑ دیا۔ نیب نے حمزہ کو گرفتار نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ نیب سے مکمل تعاون کرتے ہوئے ہر پیشی پر پابندی سے حاضر ہورہے ہیں جبکہ نواز شریف بھی نیب کے طلب کرنے پر پابندی سے نیب کے تحقیقاتی افسران کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں لیکن نیب نے اب کوئی ساڑھے چار ماہ تک اپنی تحویل میں رکھا جبکہ حمزہ شہباز نہ صرف پاکستان بلکہ برطانیہ کی بھی سیر سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی سے یقیناً عمران خان کی حکومت اور ان کے ترجمانوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے اس کا اندازہ عمران خان کی زیر صدارت میں منعقدہ ہونے والی کارروائی سے کیا جاسکتا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت ضمانت کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرے گی  یقیناً یہ اس کا حق ہے لیکن اپنی ناکامیوں کی ذمے داری اپنے مخالفین پر ڈالنے کے بجائے حکمرانوں کو خود اپنی کارکردگی کا احتساب کرنا چاہئے بقول حکومتی ترجمان فواد چوہدری کے شہباز شریف کی رہائی کوئی بڑی بات نہیں حکومت کو کسی قسم کا چیلنج درپیش نہیں تحریک انصاف نظام کو تبدیل کرنے کے لئے برسراقتدار آئی ہے آج پوری دنیا سے ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے ۔ یقیناً یہ بات سچ ہے کہ متعدد برادر ملکوں نے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے میں گراں قدر مالی امداد دی ہے ۔ عمران خان کے برسر اقتدار آئے چھ ماہ سے زائد ہوچکے ہیں لیکن عوام کو اپنی زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار نظرنہیں آرہے ہیں ، مہنگائی ، بے روزگاری گیس و بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے عوام اب سابق حکومت کے متعلق سر عام کہہ رہے ہیں کہ

تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی

عوام کو اب محض اس بات سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا کہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ملک کا مستقبل روشن ہے، مستقبل کی خام خیالی کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوسکتاہے کہ چھ ماہ گزرجانے کے باوجود کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جاسکا ۔ سابق حکومت کے شروع کئے ہوئے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کا کام تبدیلی نہیں خوش فہمی ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960ء سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top