تازہ ترین
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج ہوگا

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج ہوگا

لاہور:( 16اگست 2018) پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج کیا جائے گا، اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اجلاس کی صدارت کرینگے

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں نو منتخب ارکان خفیہ ووٹنگ کے ذریعے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب کریں گے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اسپیکر کے لئے امیدوار چوہدری پرویز الہی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اسپیکر کے لئے امیدوار چوہدری اقبال گجر میدان میں ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر کے لئے تحریک انصاف کے دوست محمد مزاری جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی اسپیکر کے لئے وارث کلو امیدوارہیں۔پنجاب اسمبلی کے ایوان میں تحریک انصاف کے 176 اور ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان ہیں،مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 162 ارکان ہیں، پیپلزپارٹی کے سات ارکان نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی تحریک انصاف کے امیدوار ووٹ دے گی، جبکہ راہ حق پارٹی کا ایک رکن اور تین آزاد بھی اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں ووٹ کا حق استمعال کریں گے۔گذشتہ روز صوبہ پنجاب کی پندرہویں اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھایا تھا،اسپیکر رانا محمد اقبال نے نومنتخب اراکین سے حلف لیا،اسمبلی کے 371 کے ایوان میں 12 نشستیں خالی ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

آج پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 179 ممبران نے حلف اٹھایا، جس میں139 جنرل، 33 خواتین اور 4 اقلیتی ارکان ہیں،مسلم لیگ نون کے 164 ارکان نے حلف اٹھایا، نون لیگ کے 128 جنرل، 30 خواتین اور 4 اقلیتی ارکان ہیں۔مسلم لیگ (ق) کے 10، پیپلز پارٹی کے 7، راہ حق پارٹی کا ایک اور 4 آزاد ارکان بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں،پنجاب اسمبلی میں 50 ایسے بھی ارکان شامل ہیں جو پانچویں، تیسری اور دوسری دفعہ اسمبلی میں واپس پہنچے ہیں۔

انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخاب میں کامیاب ہونے والے چوہدری اقبال گجر مسلسل نویں بار، اسپیکر رانا محمد اقبال پانچویں مرتبہ، میاں یاور زمان، مجتبیٰ شجاع الرحمٰن چوتھی، رانا مشہود، خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق، شیخ علاؤ الدین، بلال یاسین، خلیل طاہر سندھو اور حمیدہ وحیدالدین سمیت ڈیرھ درجن ارکان تیسری بار اسمبلی پہنچے ہیں۔میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، سبطین خان اور جہانگیر خانزادہ سمیت تین درجن سے زائد ایسے ارکان بھی شامل ہیں جو مسلسل دوسری مرتبہ اسمبلی پہنچے ہیں۔ راحیلہ خادم حسین تیسری مرتبہ مخصوص اسپیشل سیٹ پر کامیاب ہوئیں۔

ذکیہ شاہنواز، حنا پرویز، عظمیٰ زاہد بخاری اور مہوش سلطانہ سمیت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی ٹکٹ پر درجن بھر ایسی خوش نصیب ارکان موجود ہیں جو دوسری مرتبہ ایوان میں پہنچی ہیں۔صوبائی سطح پر 90 کے عام انتخابات سے مسلسل کامیاب ہونے والے رانا ثنا اللہ اور 3 مرتبہ قائد ایوان رہنے والے شہباز شریف اب اسمبلی کا حصہ نہیں ہوں گے۔ کھوسہ اور لغاری خاندان مرکز کے بعد صوبے سے بھی آؤٹ جبکہ دریشک خاندان ایک عرصے بعد صوبائی اسمبلی میں دوبارہ واپس آیا ہے۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کےرکن اسمبلی نواب ثنااللہ زہری اسمبلی نہیں آئے،نو منتخب ارکان نے حروف تہجی کے ساتھ حاضری رجسٹر پر مارک کیا، بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سولہ اگست دوپہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت سازی کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت اور اُن کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی نےجام کمال کو آئندہ وزیراعلیٰ جبکہ عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر اسمبلی کے لیے نامزد کرنے کا حتمی اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں بی اے پی اور تحریک انصاف کے درمیان معاملات طے نہ پا سکے جس کے بعد آج سپیکر اورڈپٹی اسپیکر کا انتخاب نہیں ہوگا،تحریک انصاف نے بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کا عہد ہ لینے سے معذرت کرلی ہے البتہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے لئے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کی جائیگی ۔اس سے قبل اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا، اجلاس کے آغازپراسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ تمام نومنتخب ارکان کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسی اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔ یہی وہ اسمبلی ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف لیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

کارروائی کے باقاعدہ آغازپرانہوں نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا، پچپن ارکان نے اردوجب کہ بعض نے سندھ اورانگریزی زبان میں حلف لیا، اس موقع پرمہمانوں کی گیلری میں شدید نعرے بازی ہوئی۔

تقریب حلف برداری کے بعد اسپیکر نومنتخب ارکان اسمبلی کو حروف تہجی کے اعتبار سے رجسٹر پر حاضری لگانے کی ہدایت کی ،اسمبلی میں ارکان کے رجسٹر پر دستخط کرنے کا عمل جاری ہے۔

 اہم شاہراہوں پر دو گھنٹے سے ٹریفک جام

اس سے قبل سندھ اسمبلی میں نو منتخب ارکان اسمبلی کی حلف برداری کی تقریب کے باعث شہر کے اہم علاقوں گورنر ہائوس، سپریم کورٹ، سندھ سیکریٹریٹ، سندھ اسمبلی کی اطراف ٹریفک جام ہوا ہے۔ ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے اراکین اسمبلی پیدل اسمبلی پہنچے۔

یاد رہے کہ  سندھ اسمبلی کا ایوان ایک سو اڑسٹھ ارکان پرمشتمل ہے لیکن ایک سو چونسٹھ ارکان نے حلف اٹھایا ہے جب کہ ایک رکن پیر فضل شاہ نے قومی اسمبلی کی نشست سےحلف اٹھایا ہے، ذوالفقار علی شاہ اور تھر پارکر سے رزاق راہموں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے جب کہ پی ایس 87 پر ٹی ایل پی کے امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔

پیپلزپارٹی نے مراد علی شاہ کو وزیراعلٰی، آغا سراج درانی کو اسپیکر اور ریحانہ لغاری کو ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلٰی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لئے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔اپوزیشن رہنماؤں نے کہا پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب نہیں ہونے دیں گے، ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ایم کیو ایم پاکستان سے اسپیکر اور جی ڈی اے سے ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار لئے جانے کا امکان ہے جبکہ وزیراعلٰی کیلئے مشترکہ امیدوار تحریک انصاف سے لایا جائے گا۔

اس سے قبل آج خیبرپختونخوااسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا،اسپیکرخیبرپختونخوااسمبلی اسد قیصر کی غیر موجودگی میں  پریذائیڈنگ افسراورنگزیب نلوٹھانے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

اس موقع پر خیبرپختونخوااسمبلی کے نومنتخب اپوزیشن ارکان نے سیاہ پٹیاں باندھ کراجلاس میں شرکت کی جبکہ اپوزیشن ارکان نے اجلاس سے پہلے واک آوٹ بھی کیا،اس وقت ۔نئے ممبران سے دستخط لیے جا رہے ہے۔اجلاس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کے چارسوجوان ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جبکہ مہمانوں کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے خصوصی اجازت نامے جاری کیے گئے تھے۔پاکستان تحریک انصاف کے اراکین دو تہائی اکثریت میں خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچے ہیں، یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےسوات سے صوبائی اسمبلی سے منتخب ہونے والے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا امیدوارنامزد کیا ہے۔حلف اٹھانے کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے اور شیڈول کا اعلان ہوگا۔ شیڈول کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گیارہ اگست کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی رہنما شاہ فرمان کو گورنر خیبر پختونخوا بنانے کیا ہے جبکہ شہرام خان ترکئی کو سینیر وزیر صحت اور سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدا ن دیا جائے گااس کے علاوہ عاطف خان صوبائی وزیر تعلیم و توانائی تعینات ہوں گے۔

اس سے قبل آٹھ اگست کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوات سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے والے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

محمود خان کا تعلق سوات سے ہے اور وہ سابق حکومت میں صوبائی وزیر کھیل بھی رہ چکے ہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کیلئے پرویز خٹک، اسد قیصر اور عاطف خان کے نام لیے جا رہے تھے۔ذرائع کے مطابق عمران خان عاطف خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ بنانا چاہتے تھے لیکن پرویز خٹک کی سخت مخالفت کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ جبکہ پرویز خٹک نے ہی محمود خان کا نام وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کیلئے تجویز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کیلئے محمود خان کا نام تجویز نہیں کیا، پرویز خٹک

خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اہم اجلاس 13 اگست کو طلب

 

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top