تازہ ترین
یہ اقتدار سے واپسی کا سفر ہے،سیاست سے نہیں

یہ اقتدار سے واپسی کا سفر ہے،سیاست سے نہیں

میاں نواز شریف سپریم کورٹ آف پاکستان سے جھوٹے بیان حلفی داخل کرنے کی بنیاد پر نااہل قرار پاکر پہلی بار اپنے گھر واپس جا رہے ہیں ۔ نوازشریف نے اپنی نااہلی کے بعد ایک ہفتہ مری گلیات میں گزارا ۔ اس دوران وزیراعظم کا انتخاب ، حکومت سازی اور کابینہ تشکیل دی گئی ۔ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی ، ضمنی انتخاب اور گھر واپسی کا لائحہ عمل بنایا۔ واپسی کا راستہ موٹر وے ہو یا جی ٹی روڈ ؟ یہ ایسا سوال تھا جس نے میاں صاحب کا کبھی ارادہ باندھا اور کبھی توڑا ۔ میاں صاحب کے بدلتے ارادوں کو دیکھ کر مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کی یاد آگئی ، اکثر ایک شعر سنایا کرتے تھے ؛

ارادہ باندھتا ہوں ، سوچتا ہوں ، توڑ دیتا ہے

کہیں ایسا نہ ہو جائے ، کہیں ویسا نہ ہوجائے

میاں صاحب اور ان کے چند مخصوص مشیران کا کہنا تھا کہ عدالتی نااہلی کے بعد بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے ۔ اس ضمن میں جی ٹی روڈ کا سفر اختیار کیا جائے جہاں آباد بیشتر شہروں سے مسلم لیگ نون نے کامیابی حاصل کررکھی ہے ۔ اس طرح چار گھنٹوں کا سفر تین چار دنوں میں طے کیا جائے ، بھرپور میڈیا کوریج حاصل کرکے ملک بھر میں بالخصوص پنجاب کے حامی ووٹرز کو متحرک کیا جائے اور آئندہ انتخابات کے لئے کارکنوں کو منظم اور فعال بنایا جائے ۔

دوسری طرف سنجیدہ سینئر لیگی رہنماؤں ، وزارت داخلہ، خفیہ ایجنسیوں بشمول سول خفیہ ایجنسی ، پنجاب حکومت اور وزیراعلی پنجاب کی بھی یہ رائے تھی کہ جی ٹی روڈ کا سفر کسی بھی خطرہ سے خالی نہیں ۔ ممکنہ دہشتگردی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور تین چار بڑے شہروں میں سیاسی تصادم کے خطرہ کی بھی نشاندہی کی گئی ۔ موٹر وے پر سفر کا مشورہ دینے والوں کی رائے ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں بالائی پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے کارکنوں کو اکٹھا کرکے بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا جائے ۔ جڑواں شہروں میں دن بھر ریلی اور جلوس کے بعد موٹر وے پر محفوظ سفر کیا جائے اور پھر لاہور میں وسطی و جنوبی پنجاب سے کارکنوں کو جمع کرکے ایک بار پھر بھرپور قوت کا اظہار کیا جائے۔

میاں صاحب کے لئے خصوصی گاڑی اور کنٹینر تیار کیا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق یہ بم پروف گاڑی اور کنٹینر ہوں گے ۔ اپوزیشن مخصوص پاکستان تحریک انصاف اس جلوس اور ریلی کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اور توہین عدالت کے زمرے میں قرار دے رہی ہے جبکہ حکمران جماعت ، پی ٹی آئی کی تنقید کو ممکنہ عوامی طاقت کے سبب خوف اور بوکھلاہٹ قرار دے رہی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں صاحب کے فیصلہ پر حکمران جماعت نے سابق وزیراعظم کی واپسی کا جو روٹ منتخب کیا ہے ، اس روٹ پر حکمران جماعت کو توقع کے مطابق پذیرائی حاصل ہوگی ۔ مگر قومی قیادت اور حکمران جماعت کو ایک بار یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کہیں اس عمل سے اپنی قیادت اور کارکنوں کی جانوں کو کوئی خطرہ تو نہیں ۔

میاں صاحب سرکاری منصب اور پارٹی قیادت سے نااہل ہوئے ہیں ۔ عوام ان کے ساتھ ہوئے تو عملی سیاست سے انہیں کوئی نااہل نہیں کر سکتا ۔ میاں صاحب کو اپنی جماعت کی پشت پر کھڑے ہوکر ایک طویل جدوجہد کرنی ہے ۔ طویل جدوجہد کے لئے پہلے ہی قدم پر ساری قوت صرف نہیں کی جاتی ۔ قوت کو مجتمع کرکے قدم قدم پر حکمت عملی سے چلنا ہوتا ہے ۔ لمبے سفر کے آغاز پر ہی “آر یا پار” کا مشورہ دینے والے کسی طور مخلص نہیں۔ طویل اور کٹھن سفر میں جذبات اور شعلہ بیانی کی بجائے تدبر اور جامع حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے ۔ میاں صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ان کی اقتدار سے واپسی کا سفر ہے ، سیاست سے واپسی کا سفر نہیں ۔

یہ بھی پڑھیے:

جے آئی ٹی کی رپورٹ، وزیراعظم کے پاس آپشنز

پاناما کا فیصلہ،جناب وزیراعظم کیا کریں؟

 

 

 

 

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top