تازہ ترین
یوٹرن اور کذاب

یوٹرن اور کذاب

چلیے ہمارے ہر دل عزیز وزیراعظم اور تبدیلی کے داعی جناب عمران خان نے بقول سیاسی و ذاتی فوائد کے حصول کے لئے غلط بیانی، چھوٹے وعدے اور دعوے اس لیے نہیں ہوتے کہ ان پر عمل بھی کیا جائے، بقول داعی انقلاب و تبدیلی وہ لیڈر نہیں جو حالات کے مطابق یوٹرن نہ لیتا ہوں، جو لیڈر یوٹرن نہ لے اس سے بڑا کوئی بیوقف نہیں۔ سابق آمر جنرل (ر) ضیا الحق کو آج تک پوری قوم لعنت ملامت کرتی رہتی ہے کہ اس نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قوم سے وعدہ کیا تھا کہ فوج 90 دنوں میں عام انتخابات منعقد کروا کر بیرکوں میں واپس چلی جائے گی لیکن یہ 90 دن 10 برس سے زائد کے عرصہ پر محیط رہے۔سپریم کورٹ نے عمران خان کو نااہلی کے مقدمے میں صادق و امین قرار دیے جانے کا سرٹیفکیٹ جاری رکھا ہے اس کے تحت ہی وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں ۔ عمران خان کے یوٹرن پر واضح اور دوٹوک موقف کے بعد صداقت و امانت کو سخت دھچکا پہنچا ہے، توقع ہے کہ “چوراہا” تجزیہ کار حسن نثار اور ارشاد بھٹی صاحب عمران خان کے یوٹرن کے موقف پر حسب معمول ستائش اور دانشوری کے ڈونگرے برسائیں گے۔ عمران خان کے یوٹرن کے فلسفے کا عکاس پنجاب اور وفاقی کابینہ میں نظر آتا ہے اگر میاں محمد نواز شریف قومی اسمبلی یا عدالت میں دیے ہوئے اپنے کسی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کریں تو وہ جھوٹ ہے اور عمران خان دن رات اپنی تقریر میں الزامات اور عہد و پیما سے انحراف کریں تو یہ بڑے لیڈر کی نشانیاں ہیں ۔ ہٹلر اور مسلولینی کو تاریخ میں جن الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے خدا دشمن کو بھی اس کے قریب نہ بھٹکنے دے لیکن ہمارے ہردل عزیز صادق و امین وزیراعظم کے لئے وہ ایک عظیم رہنما تھے، اگر وہ عمران خان کے بقول اپنے اصولوں اور ارادوں پر پانی پھیر کر یوٹرن لے لیتے تو وہ تاریخ میں کامیاب اور کامران ہوتے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس کے خوفناک نتائج دنیا پر کیا پڑتے۔

گزشتہ دنوں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے درمیان ہونے والے ناخوشگوار واقعے پر فواد چوہدری نے سینیٹ اور قوم کو بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں دیگر اہم قومی مسائل کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے تنازع پر بھی غور کیا گیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس تنازعے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا اور وزیر دفاع پرویز خٹک کو سینیٹ کی ذمے داری سونپتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کرنے کا کہا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو وفاقی وزیر سے بدتمیزی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس کے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ وہ عوام کی طرف سے منتخب کردہ نمائندے ہیں جبکہ سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کو عوام نے منتخب نہیں کیا اور اگر سینیٹ میں یہ صورتحال جاری رہی تو ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اس بیان کے بعد سینیٹ کے اندر اور باہر سخت ردعمل کا سامنا رہا جس پر صورتحال کو سنبھالنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے وزیر علی محمد خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ قومی اداروں کو مستحکم رکھنے پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت رہے یا نہ رہے وہ کسی بھی صورت میں کسی بھی کرپٹ وزیر کو حکومت میں ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔علی محمد خان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وفاقی کابینہ میں سرے سے سینیٹ میں چیئرمین اور وزیر اطلاعات کے درمیان کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں آیا، ابھی سینیٹ کے اندر علی محمد خان کی وضاحتی تقریر کی صدا گونج ہی رہی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کے انتہای قریبی وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی ٹی وی شو میں واضح طور پر کہا کہ وفاقی کابینہ نے اس مسئلے پر غور ہی نہیں کیا تھا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست مدینہ میں “کذاب” کی کیا سزا ہے اس کے متعلق ہم سے زیادہ خود وزیراعظم عمران خان جانتے ہونگے اگر “کذاب” کی سزا سے متعلق انہیں علم نہیں ہے تو موصوف اپنے گرد حاکم وقت کی مدہہ سرائی کرنے والے علمائے کرام سے معلوم کرسکتےہیں کیونکہ ہر حکومت کے دور میں ایسے علما بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو حالات اور وقت کے مطابق فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے دو اہم وزرا کی واضح تردید کے بعد فواد چوہدری کی کیا پوزیشن ہے اس کی وضاحت ہونا ابھی باقی ہے ۔ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلی میں یہ صورتحال صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ اس میں جھوٹے لوگ پہنچ گئے ہیں جن کے نزدیک سچ اور حقیقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔سابق حکومتوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اقربا پروری کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا تھا لیکن موجودہ حکومت اور اس کے منتظم اعلیٰ کے مطابق زلفی بخاری کیس میں عدالت عالیہ میں سماعت کے دوران جو ریمارکس دیئے گئے وہ تصویر کا دوسرا رخ پیش کررہے ہیں ۔ موجودہ وفاقی کابینہ میں عمران خان کے سیاسی ہمسفر خال خال نظر آتے ہیں اور ذاتی دوست اور خدمت گاروں کی اکثریت کی بھرمار ہے ،ذاتی دوستی اور تعلقات کے ذریعے کاروبار حکومت نہ ماضی میں چلا ہے اور نہ  ہی آئندہ چل پائے گا اس سے مزید ابتری ہی پیدا ہوگی ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top