تازہ ترین
گنے کے نرخوں کے تعین کیلئے معاملہ حکومت سندھ کو واپس بھیج دیا گیا

گنے کے نرخوں کے تعین کیلئے معاملہ حکومت سندھ کو واپس بھیج دیا گیا

کراچی: (16 جنوری 2018) سندھ ہائیکورٹ نے گنے کے نرخوں کے تعین کیلئے معاملہ حکومت سندھ کو واپس بھیج دیا ہے۔ حکومت سندھ کو گنے کے نرخ مقرر کرنے کیلئے 25 جنوری تک صوبائی کابینہ سے منظوری لے کر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

عدالت نے حکومت سندھ کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کر کے گنے کی قیمت طے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت سندھ کو کابینہ سے منظوری کے بعد گنے کی قیمت طے کر کے 7 روز میں نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں  گنے کے نرخوں کے تعین سے متعلق کاشتکاروں اور ملز مالکان کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ احکامات تک گنا فی من 172 روپے خریدا جائے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ شوگر ملز بھی بند نہیں ہوں گی۔ کوئی مل بند ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔حکومت سندھ نے گنے کے نرخ 182 روپے مقرر کیے تھے جبکہ ملز مالکان نے 130 روپے فی من سے زائد ادائیگی سے انکار کر دیا تھا۔

قبل ازیں گذشتہ روز سندھ ہائیکورٹ میں گنے کی قیمت کا تعین کرنے کے معاملے پر کاشتکاروں اور ملز مالکان کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس عقیل احمد عباسی نے مسئلہ حل نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور چیف سیکریٹری اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو فوری طلب کرلیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کام نہیں کر رہی، جوڈیشل ریفارم کی باتیں کی جاتی ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ متعلقہ سیکریٹری نہیں، اب چیف سیکریٹری پیش ہوں اور وضاحت پیش کریں۔اس موقع پر درخواست گزار مرید علی شاہ نے دلائل دیئے تھے  کہ حکومتی اقدام سے نقصان ملز مالکان کا نہیں کاشتکاروں کا ہورہا ہے، سندھ ہائیکورٹ نے گنے کی قیمت مقرر کی تاہم ملز مالکان نے ملز بند کردیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شوگر ملز بند کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے، پاسما کے عہدیداروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔سماعت کے دوران شوگر ملز مالکان کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس شوگر کی قیمت 70 سے زیادہ تھی، ہم مارکیٹ مکینزم کی وجہ سے مجبور ہوجاتے ہیں۔ 182 روپے کا گنا نہیں خرید سکتے، اس قیمت سے شوگر ملز کو روزانہ 70 سے 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوگا۔ وزیر، سیکریٹری ثقافت، سیکریٹری زراعت سب حکومت کے پاس ہے مگر شوگر ملز کو فائدہ نہیں ہورہا۔اس موقع پرسندھ ہائیکورٹ نے حکومت سندھ سے 2014/15 میں کاشتکاروں کو 12 روپے سبسڈی برقرار رکھنے سے متعلق جواب طلب کیا تھا، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کو حکومت سے مشاورت کرکے جواب داخل کرانے کا حکم  دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت سندھ سے گنے کاشتکاروں کو سبسڈی دینے سے متعلق جواب طلب

گنےکی کرشنگ کاآغازنہ ہونےکےخلاف:اندرون سندھ کے شہروں میں ہڑتال

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top