تازہ ترین
گمشدہ رٹ کی تلاش

گمشدہ رٹ کی تلاش

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان تین روزہ جلاو گھیراؤ کے بحران سے بخوبی نکل آیا ہے لیکن اسکے چھوڑے ہوئے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ۔ تحریک لبیک اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے وزرائے مذہبی امور کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ہنگاموں میں ملوث افراد کے متعلق کچھ بھی موجود نہیں ۔ اس معاہدے میں حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی ۔ تین دنوں تک ٹیلی ویژن پر عوام کو تسلیاں دینے والے وزرائے کرام اور قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ سے لیکر ادنیٰ افسران تک اپنے دفاتر یا گھروں میں خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہے ۔ تحریک لبیک اور وفاقی وزیر مذہبی امور ک درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں جلاو اور گھیراو کرنے والے افراد بخیر و خوبی نعرے لگاتے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ ہنگامے میں ملوث افراد کے بغیر باز پرس کے چلے  جانے کے بعد ریاست کی رٹ کی تکرار کرنے والے وزرا اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جاگ اٹھے اور اب انکو مختلف اداروں سے حاصل شدہ فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا جارہا ہے ۔جن لوگوں نے مسلسل تین دن تک پورے ملک کے غریب عوام ،محنت کشوں اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو یرغمال بنا رکھا تھا انکو اب کیفر کردار تک پہنچانے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ان تین دنوں کے دوران ملک کو بھی اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا ،رٹ نافذ کرنے والی حکومت اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ تین روزی جلاو گھیراو کے دوران حکومت مخالفین کے علاوہ اس کے حامیوں نے بھی حکومت کی بے بسی کو بری طرح محسوس کیا ۔ وہ ٹی وی اینکر جو دن رات تحریک انصاف اور اسکے رہنما عمران خان کی مالا جبتے نظر آتے ہیں وہ بھی کھل کر حکومت کی بے بسی اور نااہلی کا شکوہ کررہے ہیں ۔یہ بات خوش آئند ہے کہ اس سنگین صورتحال کے دوران کسی بھی چھوٹی بڑی اپوزیشن کی جماعت  نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ اپوزیشن جماعتوں کے مثبت رویے کا اعتراف نہ کرنا سراسر بد دیانتی اور ناانصافی کے مترادف ہے۔ ہمارے سامنے گزشتہ دس سالوں کے دوران ہونے والے دھرنوں کی مثالیں موجود ہیں جب دھرنا دینے والی جماعت اور اسکے رہنماوں نے ایسے حالات پیدا کردیے تھے کہ ہمارے عظیم دوست چین کے صدر کو اپنا دورہ اسلام آباد ملتوی کرنا پڑا اس کے علاوہ تحریک لبیک کے تحت اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا گیا تھا تو حکومت مخالف سیاسی جماعت نے انکی کھل کر مدد کی تھی اور دھرنے کے منتشر ہونے کے وقت  ہزار ہزار روپے بھی دھرنے میں شامل افراد کو بطور بخشش عطا کیے تھے۔ موجودہ تین روزہ دھرنے کے دوران ملک کو 150 ارب روپے کا مالی نقصان پہنچا ۔ اس سے قبل اسلام آٓباد میں جو 126 دنوں تک دھرنا دیا گیا تھا اس سے پاکستان کو جن مالی  مسائل کا سامنا کرنا پڑا اسکا خمیازہ پاکستان آج بھی اقتصادی بدحالی  کی شکل میں بھگت رہاہے ۔ تین روزہ دھرنے میں حکومت کی ناقص کارکردگی کے ساتھ حکومت کے 90 دنوں کے تبدیلی کے ایجنڈے پر بھی سوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں ۔ حکومت پر ہونے والی نقطہ چینی سے حکومت کے ترجمان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس کے اس تبصرے سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70 دنوں میں آلو کی فصل تیار نہیں ہوتی ہم سے کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف 90 دنوں میں پاکستان کے حالات تبدیل کردے ۔ بلاشبہ حکومتی ترجمان کی بات اور دلیل درست ہے لیکن جناب 90 دنوں میں تبدیلی کا دعویٰ اپوزیشن نے نہیں بلکہ آپکی جماعت کے سربراہ نے ایک سے زائد بار عوام کے سامنے کیا تھا۔ابھی اس مدت کے ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں ،90 دنوں کے اختتام پر توقع ہے کہ وزیر اعظم یا انکے ترجمان ملک میں پیدا ہونے والی تبدیلی سے عوام کو آگاہ کرکے بتائیں گے کہ پاکستان نے آپکے قول و وعدے کے مطابق کیا کھویا کیا پایا ۔ یہاں صرف جناب عمران خان کی سابقہ اہلیہ کا ٹوئٹ بلا کسی تبصرے کے حاضر خدمت ہے جس میں محترمہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ‘آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے دفاع میں عمران خان کی دلیرانہ تقریر کے بعد انکا جھکنا یہ وہ نیا پاکستان نہیں جس کی امید تھی ، اس ٹوئٹ کے بعد کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top