تازہ ترین
کھلونا دے کر بہلایا گیا ہوں

کھلونا دے کر بہلایا گیا ہوں

آئندہ چند ماہ کے دوران مشکلات پیش آئیں گی،یہ کہنا ہے وزیر اعظم عمران خان کا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند ماہ ختم ہونے کے بعد غریب اور مسکین عوام کے لیے دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی ۔ حالات بتاتے ہیں کہ مہنگائی کے دیو پر پاکستان میں آج تک کوئی بھی حکمران قابو نہ پاسکا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ چھ ماہ یا سال بھر کے بعد عوام کی مشکلات ختم یا کم ہوجائیں گی۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ غریب عوام کو زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہورہی۔ کراچی کے لاکھوں عوام بوند بوند پانی کے لیے ترس رہے ہیں، انسان خالی پیٹ تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر زندگی  ناممکن ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔سعودی عرب سے 6 ارب ڈالر کا پیکج لینے کے ایک دن بعد ہی بجلی کی شرح میں گھریلو و صنعتی صارفین پر دس سے پندرہ فیصد اضافے کا بم گرادیا گیا ۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس اضافے سے تین سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین متاثر نہیں ہونگے حکومت کا یہ موقف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ضروریات زندگی کی اشیا کے نرخ مزید بڑھ جائیں گے اور اس طرح مہنگائی کے طوفان کو روکنا ناممکن ہوجائے گا۔ اب تو دال اور سبزی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں۔ چھ ماہ یا سال بھر مہنگائی ختم ہونے کا انتظار کرنے کی تلقین سے غریب عوام کی بھوک کو نہیں مٹایا جاسکتا ۔موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے تین ماہ مکمل ہونے والے ہیں اس دوران غریب و محنت کش عوام جن کے ووٹوں سے عمران خان کی پارٹی ایوان اقتدار میں پہنچی ہے انکی زندگی کے روزمرہ مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان اور انکے وزرا کے تکبر میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، یہ لوگ سیاسی مخالفین کو نہیں چھوڑوں گا، جیل میں ڈالوں گا کی گردان کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم،وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات کے درمیان یوٹرن لینے کا ناختم ہونے والا مقابلہ جاری ہے۔ بنی گالہ کے دسترخوان کے خوشہ چین ٹی وی اینکر کو سسکتے ہوئے عوام کی آہیں سنائی یا دکھائی نہیں دیتیں ۔ ایک طرف وزیراعظم پاکستان کے بے گھر افراد کو 50 لاکھ مکانات کی لالی پاپ دینے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف بنی گالہ کی انتہائی قیمتی اراضی پر ناجائز تعمیرات کو ریگولائز کرانے کی اجازت دی جارہی ہے ۔ مکانات کی تعمیر کے منصوبے کا خواب ہر حکومت نے دکھایا ہے سوائے ایوب خان کے دور میں کسی بھی حکومت نے عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا ۔ ایوب خان کے وزیر آبادکاری و مہاجرین جنرل اعظم خان کی کوششوں سے آباد ہونے والی کورنگی اور نیو کراچی کی بستیاں آج بھی موجود ہیں۔ ایوب خان کے بعد 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا جو آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔ اس کے بعد نواز شریف نے اپنے پہلے اور دوسرے دور حکومت میں غریبوں کے لیے مکانات و فلیٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ بھی نواز شریف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیوند زمین ہوگیا ۔ 1947 میں حکومت پاکستان کے ملازمین کو درپیش رہائشی مشکلات کو دور کرنے کے لیے پرانے گولی مار کے علاقے سے ملحق پاکستان کوارٹرز ،جہانگیر روڈ ،ایسٹ ویسٹ ،مالٹن روڈ ،جیل روڈ اور جیکب لائن میں کوارٹر تعمیر کیے گئے ۔ ان کوارٹروں میں پاکستان ہجرت کرنے والے سرکاری ملازمین کی اولادیں آج رہائش پذیر ہیں ، ان خاندانوں کو ایک بار پھر 1947 کی صورتحال کا سامنا ہے ۔ملک کے بڑے بڑے شہروں میں رہائشی سہولتوں کا فقدان ہے ،بڑے پیمانے پر دیہی علاقوں سے شہروں میں آبادی کے منتقل ہونے سے شہری زندگی کے معمولات الٹ پلٹ گئے ہیں۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ کراچی کے جن علاقوں میں سرکاری کوارٹر واقع ہیں یہاں سے حالیہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے ہیں لیکن بے دخلی کے وقت تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے متاثرہ خاندانوں کو پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے سامنے تنہا چھوڑ کر تماشا دیکھتے رہے ۔ویسے بھی عمران خان اور انکے وزرا کے یوٹرن کو دیکھتے ہوئے عوام کو شبہ ہے کہ 50 لاکھ مکانات کی تعمیر کا خواب انکی زندگیوں میں شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top