تازہ ترین
کنٹینر سے اتریئے۔۔۔

کنٹینر سے اتریئے۔۔۔

پاکستان کے عوام آج اپنے آپ کو مفلسی غربت اور مایوسی کی گہری کھائی میں گرا ہوا محسوس کررہے ہیں ۔ عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہمارے موجودہ حکراان کنٹینر پر کھڑے ہوکے غریب عوام کو سنہرے خواب دکھاتے رہے ہیں لیکن انکے اقتدار میں آنے کے بعد وہ شیخ چلی کے خواب کی طرح بکھر گئے اب اگر حزب اختلاف کی جماعتیں انکو عوام سے کیے گئے وعدے اور یقین دہانیاں یاد دلاتی ہیں تو انکو وزیر اعظم کے عہدہ جلیلیٰ پر فائز ہونے والے شخص کی زبان میں نہیں بلکہ کنٹینر میں استعمال کی جانے والی زبان میں جواب دیا جاتا ہے ۔ عوام حیران وپریشان ہیں کہ ہمارے سیاستدان بازاری زبان درازیوں سے نجات حاصل کرکے ان کے بنیادی مسائل پر کب توجہ دیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ حکومتیں موجودہ حکمرانوں کے لیے بحران چھوڑ کر گئے ہیں ۔پاکستان میں ہر آنے والی حکومت سابقہ برسراقتدار افراد کو ملک کو درپیش مسائل کا ذمے دار قرار دیتی چلی آرہی ہے ۔ ملک کے عوام کو اقتصادی ،سیاسی، سماجی اور عدالتی مسائل سے نجات دلانے کے لیے بلند و بانگ دعوے کرتی ہیں لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد کسی بھی حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے پر سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ۔ ہر دور میں ملکی خزانہ لوٹنے اور عوام کا خون چوسنے والے سیاستدان اور مذہبی لبادہ اوڑھ کر اسلامی مساوات کا نظام نافذ کرنے کا دعویٰ کرنے والے حکومت میں شامل ہوتے ہی لوٹ مار میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ کل تک جو لوگ مشرف و نواز شریف کی کرپٹ حکومتوں کے لازمی جز تھے وہ آج موجودہ حکومت کے دست بازو ہیں ۔ پاکستان کے بڑے بڑے اور اصول پرست سیاستدان خلائی مخلوق اور ابن الوقت سیاستدانوں کی چالاکیوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔عمران خان کی حکومت میں عوام جب کرپٹ زمانہ اور بدعنوان افراد کو وزارت اور مشیر کے عہدے پر فائز دیکھتے ہیں تو وہ یہ سوچنے پر اپنے آپ کو حق بجانب محسوس کرتے ہیں کہ سابقہ اور موجودہ حکومت کے طرز سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ کل تک پولیس تھانے کا جو کلچر تھا وہ آج بھی موجود ہے ۔ ماضی کی طرح مخالفین پر جھوٹے سچے الزامات لگاکر سیاستدانوں کو سزائیں دلائی جاتی تھیں آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ملکی و غیر ملکی صحافیوں سے اپنی ملاقات کے دوران بات چیت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کو مجرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے ۔ بلاشبہ ہر مجرم کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے، کسی بھی مجرم کو این آر او نہیں ملنا چاہیے لیکن ایسا کرتے وقت انصاف اور مساویانہ سلوک شرط اولین ہے۔ عمران خان کو اپنی کابینہ میں شامل افراد پر اسی اصول کو لاگو کرنا چاہیے۔ ضیا الحق دور سے نواز شریف حکومت تک لوٹ مار میں مصروف بیشتر سیاستدان حکومت کی ناک کا بال بنے ہوئے ہیں ۔ خود عمران خان جس سیاستدان کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں وہ تحریک انصاف کی حمایت سے اسپیکر کے عہدے پر فائز ہے ۔ وفاقی کابینہ کی اکثریت مشرف کی آئین شکنی کیس میں برابر کی شریک رہی ہے ۔ پنجاب میں قتل و زمینوں پر قبضے میں ملوث بدنام زمانہ منشا بم اور اسےن صاحبزادے تحریک انصاف کے سربراہ سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں ۔ مشہور زمانہ کنٹینر دھرنے میں فیصل آباد کے جن چار صنعتکاروں نے دھرنے میں شریک افراد کو روزانہ کھانا اور ناشتہ فراہم کرکے کروڑوں روپے خرچ کرنے کا انکشاف کیا تھا کیا یہ خرچ ہونے والی رقوم جائز تھیں یا ٹیکس چوری کی تھیں ۔رہ گیا مسئلہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی تقریر کا تو اسکو ملک ملینگ قرار دینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔ اگر اس الزام کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اسمبلی میں ہونے والی حزب اختلاف کے ارکان کی ہر تقریر بلیک میلنگ میں شمار کی جائے گی ۔ خود عمران خان کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جن میں انہوں نے سابقہ حکومت پر سخت تنقید کی تھی لیکن بعد میں وہ غلط ثابت ہوئیں ۔ کیا ان تقاریر کو بلیک میلنگ کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے؟ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے نیب پر عائد الزامات کی آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کراکر عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے ۔موجودہ حالات اور بحران سنجیدگی کے متقاضی ہیں، قوم کو زیادہ عرصے یوٹرن کے ذریعے بہلایا نہیں جاسکتا اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کا بھی فرض ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرے ۔ اقتدار اںٓی جانی چیز ہے لیکن یہ ملک اور یہاں کے عوام ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے کچھ اس کی فکر کریں ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top