تازہ ترین
کراچی: پاکستان میں پہلی بار اعضاء کی پیوندکاری پر دو روزہ ورکشاپ کا آغاز

کراچی: پاکستان میں پہلی بار اعضاء کی پیوندکاری پر دو روزہ ورکشاپ کا آغاز

کراچی:(05 دسمبر 2018) پاکستان سوسائٹی فار میٹابولک اینڈ بیریٹرک سرجری کی جانب سے پاکستان میں پہلی بار سوچرنگ کے عمل پر ورکشاپ کا آغاز ہواہے۔ ورکشاپ میں  بیرون ممالک کے ڈاکٹرز بھی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

پاکستان سوسائٹی فار میٹابولک اینڈ بیریٹرک سرجری کی جانب سے دو روزہ ورکشاپ اور کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ کانفرنس میں اعضا کی پیوند کاری کے انتہائی اہم عمل کو زیر بحث لایا جائے گا۔ سوچرنگ کی عمل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے فرانس اور برازیل کے ڈاکٹرز بھی شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئے۔فرانس کے مشہور گائناکالوجسٹ ڈاکٹرارناڈ واٹی از کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ سوچرنگ کے عمل پر سکھانے کا موقع ملا ہے۔ اعضا کی پیوند کاری ایک انتہائی اہم عمل ہے۔ متعدد ایسے افراد جو موٹاپے کا علاج کروانے کیلئے لیپراسکوپک سرجری کرواتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں پیوند کاری کا عمل شدید اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم کے ٹشو کو دوسرے ٹشو سے صحیح طریقے برابر سے جوڑنا اہم عمل ہے اور اگر سوچرنگ کے عمل پر خصوصی توجہ نہ دی جائے تو انسانی جسم تکلیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

پروفیسر واٹی ایز سمیت برازیل کے ماہرین میڈیکل سائنس اور لیپروسکوپی کے ماہر ڈاکٹر ارمانڈو رومیو بھی دوروزہ کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آئے ہیں۔ڈاکٹر ارمانڈو نے کہا کہ لیپروسکوپی میں تیس سینٹی میٹر لمبے آلے کی مدد سے جسم کے اندرون سوچرنگ کا عمل ہوتا ہے۔ آلے پر لگے ہوئے کیمرے کی مدد سے اس پیوند کاری کے عمل کو دیکھا جاتا ہے۔ اعضا کی پیوند کاری کا عمل انتہائی حساس اور اہمیت کا حامل ہے جس کی بنا پر اعضا کو صحیح طریقے سے جوڑ کر پرانی شکل میں ڈھالتے ہیں۔

دو روزہ کانفرنس کا آغاز پانچ دسمبر سے ہورہا ہے جس کے بعد خصوصی ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ اس ورکشاپ میں پاکستانی طب کی دنیا سے تعلق رکھنے والے تیس ڈاکٹرز شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑگیا

 

Comments are closed.

Scroll To Top