تازہ ترین
کراچی اور برینڈ کی سیاست

کراچی اور برینڈ کی سیاست

ٰکراچی اور برینٖڈ کی سیاست مجھے آج بالی ووڈ فلم ’’گبر از بیک‘‘ یاد دلارہی ہے۔ کیا عمدہ اداکاری کی اکشے کمار نے۔ کیا عمدہ اسکریپٹ اور کیا اعلی ڈائیلاگ۔۔۔ ایک ڈائیلاگ آج بہت یاد آیا وہ تھا ’’گبر از آ برینڈ‘‘۔ کراچی میں جاری دو دن سے دھواں دار پریس کانفرنسز کے بعد ایک ہی جملہ کانوں میں گونج رہا ہے ’’گبر اِز آ بگ برینڈ دین یو‘‘۔۔۔ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا سب جگہ خبروں تبصروں اور تجزیوں کا بازار گرم ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حماد صدیقی کی واپسی اور متوقع سچ کی الٹیوں نے مجبور کیا کہ فاروق ستار مصطفیٰ کمال سے بغلگیر ہو گئے۔ وہ جس کو 5 نومبر2017ء تک اسٹیبلشمنٹ کی بغل بچہ پکار رہے تھے پہلو میں لیے کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اب کراچی میں نئی پارٹی ہوگی،  نیا منشور ہوگا اور نیا نشان ہو گا۔ فاروق ستار نے پہلے روز یہ بھی کہا کہ متحدہ اور پی ایس پی نے ایک ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ آئندہ الیکشن میں ایک نام اورایک نشان پر اکٹھے ہونگے۔ یہ تھی وہ خبر جس نے سب کو تبصروں تجزیوں پر مجبور کیا اور یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ایسی کیا مجبوری آگئی کے 23 اگست کے بعد الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد جدوجہد کرتے فاروق ستار وہاں چلے گئے جہاں جانے والوں کو ایک رات پہلے تک کسی اور کا پلان بتاتے تھے۔ پھر مجھے یاد آیا ایک اور ڈائیلاگ ’’اب گبر (گبر کو مقتدر حلقے سمجھا جائے) کا پی ڈبلیو ڈی چلے گا یعنی پاور والا ڈنڈا‘‘۔۔۔ شاید ایسا ہی ہو کیونکہ 22اگست کی تقریر کے بعد مہمان نوازی نے مائنس ون کروایا تھا مگر ضدی دل اب تک مانا نہیں تھا۔ سو اب ماننا ہی تھا مگر اس پوری پریس کانفرنس کا کمال میلا لوٹا مصطفیٰ کمال نے۔ کیا باڈی لینگویج، کیا تاک تاک کے وار۔۔۔ ایسا لگا کہ لڑکے کی ساس لڑکی کی ماں کو سنا رہی ہو اور کہا جاتا رہا کہ یہ شادی انجام کو پہنچی۔ بس پھر کیا تھا رات جیسے تیسے گزری رشتہ داروں کی جانب سے رات بھر سوشل میڈیا پر شادی کی تقریب پر کیچڑ اچھالا جاتا رہا۔۔۔ اور اگلے روز ایک اور پریس کانفرنس ہوئی جس میں ایک رات کی شادی ختم ہوئی اور میلا لوٹا فاروق ستار نےاور بتا دیا کہ ’’گبراز آ بگ برینڈ دین یو‘‘۔۔۔ فاروق ستار کا 38 سالہ سیاسی تجربہ مصطفیٰ کمال کی 20ماہ کی سیاسی کامیابیوں کو دھو گیا۔ کانفرنس کیا تھی لگتا تھا واضح پیغام ہے کہ اب بس ہم بھی اسی طرز کی سیاست کریں گے جیسے کرتے آئے ہیں اور بے جا سختی نے مجبور کردیا کہ اپنی موجودگی کا احساس دلایا جائے اورغالباً فاروق ستار اس پیغام کو دینے میں کامیاب بھی رہے۔Image result for farooq sattarقیاس آرئیوں کا بازار گرم تھا کہ فاروق ستار پر پارٹی کا نام، جھنڈا اور الیکشن کیلئے الاٹ نشان پتنگ بدلنے کیلئے دباؤ ہے جس کو تقویت مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کی جبری شادی سے بھی ملتی ہے مگر یہ معاملہ رخصتی تک بھی ٹک نہیں پایا۔ بہر کیف ایسے میں مجھے یاد آیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جماعت الدعوۃ پر پابندی کے بعد نام بدلنے والی ایم ایم اے یعنی ملی مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرنے سے الیکشن کمیشن انکار کر چکا ہے، جس کیلئے یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ وفاقی وازارت داخلہ سے پہلے این او سی لازمی ہے کیونکہ وازارت داخلہ نے انکار کیا ہے کہ ایم ایم اے کو رجسٹر نا کیا جائے۔ جبکہ اس سے تھوڑا اور پہلے 2012ء میں سنی تحریک پر پابندی لگی تو نام بدل کر پاکستان سنی تحریک بن گئی اور ٹیبل لیمپ کے نشان پر 2013ء کے الیکشن کا حصہ بن چکی ہے یعنی اگر آپ پر پابندی لگتی ہے تو یہ اعلیٰ مقتدر حلقوں سے تعلقات اور ضرورت پر منحصر ہے کہ آپ کا نام بدلنا قبول ہے یا نہیں۔۔۔ کچھ ایسی ہی گومگو کی کیفیت سے باہر نکلنے کیلئے فاروق ستار ماسٹر اسٹروک کھیل گئے ہیں کیونکہ کون جانے نام بدلنے کے بعد بھی حشر ملی مسلم لیگ جیسا ہو اور اگر شرف قبولیت بخشنا ہی ہے تو وہی لوگ وہی کام پھر نام میں کیسی عار؟ اور یہ ہی بھانپتے ہوئے مصطفیٰ کمال اینڈ پارٹی کو بتا دیا کہ فاروق ستار اور پارٹی اب بھی برینڈ ہے جس کے ساتھ کراچی کی سیاست اور دم توڑتی ایم کیو ایم پاکستان میں نئی جان ڈال دی ہے۔ لیکن معاملہ یہاں تھما نہیں، اب جب تک راقم کی تحریر آپ تک پہنچے گی مصطفیٰ کمال کا پیغام آیا ہے دل تھام کر بیٹھنا صاحب، کیونکہ اب ہماری باری ہے۔ اب الزام در الزام پر جواب الجواب آتے رہیں گے مگر یہ ضرور طے ہو گیا کہ شہر پر راج کون کرے گا؟ کیسے اس کا کنٹرول سنبھلے گا اب تک مقتدر حلقے طے نہیں کر پائے۔Image result for farooq sattarیہ شہر 712ء میں محمد بن قاسم کی دیبل کی بندرگاہ آنے کے بعد بسا۔ اس راستے اور بندرگاہ نے تجارت اور سیاسی چڑھائی کیلئے راہ ہموار کردی۔ وقت گزرتا گیا اور صدیوں کے سفر نے دیبل کو سترہویں صدی میں کولاچی جو گوٹھ، پھر کولاچی اور اٹھارویں صدی میں برطانوی راج میں کراچی کردیا اور وہی سے اس کی جغرافیائی اہمیت نے اسے اقتصادی طور پر مستحکم کیا اور یوں اس شہر میں نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوا بلکہ خود کو مستحکم کرنے کیلئے سیاسی اجارہ داری کیلئے حکمرانی کی جنگ بھی چھڑ گئی۔Image result for farooq sattar       اس شہر میں پارسی، ہندو، یہودی سکھ  اور مسلمان بھی آباد تھے۔ آزادی کے بعد کراچی میں سندھیوں کے ساتھ بنگالی، میمن، ہندکو، بلوچی، گجراتی، بوہری، مراٹھی اور حیدرآبادی بھی آکر بس گئے اور یوں ہندوستان سے بڑی تعداد میں مختلف علاقوں سے مختلف زبانوں والے لوگ آکر یہاں رچ بس گئے اور پھر شہر میں اپنی اپنی دنیا بسا لی۔ آنے والے مہاجر کہلائے اور خود کو یہاں ڈھالنےکیلئے کوششیش کرتے رہے اور جب بانی پاکستان کا منتخب کردہ دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا گیا تو نوزائیدہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں بڑی تعداد میں آ کر بسنے والوں کو اس صورتحال نے متفکرکردیا۔ اور یہا ں سے اپنی شناخت، اپنی پہچان اور خود کو مستحکم کرنے کی جنگ کا آغاز بھی ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔ اسی کی قسط وار کہانی کا ایک سلسلہ کمال و ستار کی بغلگیری بھی تھی۔۔۔ خیر ملک میں پہلی بار براہ راست الیکشن 1970ء میں منعقد ہوئے جہاں پورے ملک میں لبرل نوزائیدہ جماعت پیپلز پارٹی اور عوامی مسلم لیگ نے کامیابی سمیٹی، لیکن کراچی میں بڑی حد تک مذہبی جماعتوں نے کامیابی حاصل کی۔ کراچی میں سات قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے 2 پیپلز پارٹی، باقی مذہبی جماعتوں جے یو پی اور جے آئی نے حاصل کی۔ 1972ء میں سندھی زبان کی ترویج اور استعمال کے ہنگامے نے مہاجروں کو مزید خوف میں مبتلا کر دیا اور یوں سات سال بعد 1977ء کے انتخابات کے بعد جو کچھ ہوا اس سے سب واقف ہیں۔ بلاآخر 1988ء کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے چھوٹی بڑی جماعتوں کو شامل کر کے حکومت بنائی جس میں کراچی میں اہم کردار حاصل کرلینے والی جماعت ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا لیکن قوم پرست سندھیوں کی جانب سے ایم کیو ایم کے کارکنان کی اموات کے بعد ایم کیو ایم اتحاد سے علیحدہ ہو گئی اور نواز شریف کے بنائے اسلامی جمہوری اتحٓاد کی حمایت کردی۔ ایم کیو ایم نے اس وقت 13 میں سے 11 نشستوں کو حاصل کیا تھا۔ 1990ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئی۔ 1993ء میں ایم کیو ایم نے 1992ء میں شروع ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ 1997ء مین بھی ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کا فائدہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ کراچی میں ووٹر ٹرن آؤٹ 27 سے 35 فیصد رہا۔ اس کے بعد 2002ء میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 17 نشستیں حاصل کیں۔ 2008ء کے الیکشن میں قومی اسملبی کی 25 اور صوبائی اسمبلی میں 52 نشستیں حاصل کیں، جس کے بعد 2013ء میں ایک بار پھر 24 نشستوں کے ساتھ خود کو عوام کی نمائندہ جماعت ثابت کرتی آئی ہے۔ اس درمیان ایم کیو ایم کے خلاف کئی ریاستی آپریشن بھی ہوئے، جس میں مئی 1990ء کا پکا قلعہ آپریشن، پھر 1992ء اور 1993ء کا آپریشن کلین اپ جس میں جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے۔۔۔ مگر پھر بھی ایم کیو ایم کو سیاست کا حصہ رکھا گیا اور پھر ایک بار نصیر اللہ بابر نے آپریشن لانچ کیا ۔یہ ہی کلین اپ سلسلہ حکیم سعید کے قتل کے بعد دیکھا گیا۔ پھر 2013ء کے بعد ایک بار پھر آپریشن ہوا جس کے بعد 22 اگست کی تقریر ہوئی اور بالآخر جو اتنے عرصے میں نہیں ہو پایا وہ ہو گیا اور ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے نجات ملی۔۔۔ مگر کیا ایم کیو ایم کو کراچی کی سیاست میں حصہ دینا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا۔

اسی لیے صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصراق سلسلہ جاری ہے۔ لیکن اگر ایم کیو ایم پاکستان کو کالعدم کیا جا تا ہے تو اس شہر میں اردو بولنے والوں کیلئے متبادل جماعت کون ہو گی؟ عملاً پی ایس پی، ایم کیو ایم حقیقی، پاکستان سنی تحریک کو اس شہر کے رہنے والے مسترد کر چکے ہیں۔ 2011ء میں کراچی میں لانچ کی گئی پی ٹی آی کا انجام این اے 246 میں 2015ء کے ضمنی انتخاب میں سامنے آچکا ہے۔ اب ایم کیو ایم کس قیمت پر نوکری کرے گی؟ شاید اگلے 6 ماہ یہ طے کر پائے اور جس کا اصل اندزہ کرنے کیلئے فاروق ستا رنے یادگار شہداء جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سفر سے معلوم ہو جائے گا کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے اور کیا کسی تصادم کی صورت میں عوامی حمایت فاروق ستار اور پارٹی کے ساتھ ہے یا نہیں؟؟ اور اسی کشمکش میں مقتدر حلقے بھی جانچ لیں گے کہ کون بڑا برینڈ ہے فاروق ستار یا مصطفی کمال۔
یہ بھی پڑھیے
http://urdu.abbtakk.tv/%D8%B4%D9%88%D9%82%DB%8C%D9%86-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC-%DA%88%D8%A7%DA%A9%DA%91-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%D9%88%D9%85%D9%86-%D9%BE%D8%A7%D9%88%D8%B1/
http://urdu.abbtakk.tv/%D9%85%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%8C-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%A9/

Comments are closed.

Scroll To Top