تازہ ترین
کراچی: انصارالشریعہ کے گرفتار سرغنہ عبداللہ کے چشم کشا انکشافات

کراچی: انصارالشریعہ کے گرفتار سرغنہ عبداللہ کے چشم کشا انکشافات

کراچی: (08 ستمبر 2017، رپورٹ شہاب سلمان) کراچی سے حراست میں لئے گئے انصار الرشعیہ کے سرغنہ عبداللہ ہاشمی نے اہم انکشافات کردیئے ہیں، انصار الشریعہ کے تمام کارندے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اور کوڈ ورڈ میں بات کیا کرتے تھے۔

کراچی سے حراست میں لئے گئے انصارالرشعیہ کے سرغنہ عبداللہ ہاشمی کے اہم انکشافات منظرعام پر آگئے ہیں۔ عبداللہ ہاشمی کے مطابق انصار الشریعہ کے تمام کارندے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اور فون پر کوڈ ورڈ میں بات کرتے تھے، عبداللہ ہاشمی کے مطابق کارندے ایک دوسرے کو بلانے کے لئے چائے پیو گے کا جملہ استعمال کرتے تھے اور اگر فون ریسو کرنے والا چائے پینے سے منع کردیتا تو سمجھ جاؤ کہ وہ ملنے آئے گا۔

عبداللہ ہاشمی (کراچی سے گرفتار انصار الشریعہ کا سرغنہ)

عبداللہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر گروپ کے لڑکے جامعہ کراچی میں ملتے تھے، جامعہ کراچی میں بھی ملنے کی مخصوص جگہ تھی۔ گروپ کا فرار ساتھی سروش تمام لڑکوں کو ملنے میں مدد دیتا تھا۔ عبداللہ ہاشمی کے مطابق حسان نذر کی ہلاکت کے بعد اندازہ نہیں تھا کہ پولیس ان تک پہنچ جائے گی، حسان نذر کی شناخت کے بعد پولیس نے اس کے موبائل فونز سے دوستوں کا ڈیٹا نکال لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے سب سے پہلے حسان نذر کے دوست شہریار کو پکڑا، جس کے بعد شہریار نے تمام دوستوں کے بارے میں انکشافات کردیئے۔ دوسرا چھاپہ پولیس نے سروش کے گھر پر مارا، جس میں پولیس اہلکار جاں بحق اور ملزم فرار ہوگیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ ہاشمی نے اپنے تمام ساتھیوں کے بارے میں پولیس کو فرفر بتادیا تھا۔

بلوچستان سے گرفتار کئے گئے انصار الشریعہ کے کارندے

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حیرت انگزیر طور پر حراست میں لئے گئے کسی بھی طالب علم کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، عبداللہ ہاشمی نے بتایا کہ گروپ سے 6 لڑکے افغانستان سے دہشت گردی کی ٹریننگ بھی حاصل کرچکے ہیں، گروپ کے لڑکوں پر بھی نگاہ رکھی جاتی تھی۔ عبداللہ ہاشمی کے مطابق گروپ کے لڑکوں کو منع کیا گیا تھا کہ وہ کسی سے غیر ضروری ملاقاتیں نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے

 

قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی کراچی میں کارروائی، انصارالشریعہ کا کارندہ گرفتار

خواجہ اظہار حملہ کیس: جامعہ کراچی سے مزید 4 طالبعلم زیرحراست

Comments are closed.

Scroll To Top