تازہ ترین
ڈونکی کنگ اور انقلاب۔۔۔

ڈونکی کنگ اور انقلاب۔۔۔

کے پی کے کی پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے دعوے دار موجودہ حکمران جماعت کے سربراہ جناب عمران خان کے محبوب ترین انسپکٹر جنرل پولیس کے پی کے کے سابق سربراہ پنجاب پہنچ کر سیاست زدہ ہوگئے۔ پنجاب کے سیاست دان جو برسا برس سے برسر اقتدار آکر صوبے کی پولیس کو اپنا تابع اور فرمانبردار بنانے کے عادی ہیں گذشتہ دنوں وزیر اعظم کے دورہ لاہور کے موقع پر اپنی حکومت کے من پسند نامزد کردہ آئی جی پنجاب محمد طاہر کو انتہائی پر اسرار طریقے سے تبدیل کردیا گیا اور ان کی جگہ ایک دوسرے چہیتے افسر کو آئی جی بنادیا گیا۔ محمد طاہر ایک مہینہ کچھ دن اس عہدے پر فائز رہے اور اس مختصر ترین وقفے کے دوران پنجاب کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے سیاسی دباو کا شکار بننے سے منکر رہے۔ارکان اسمبلی پولیس افسر کی جرت رندانہ کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پھٹ پڑے اور مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں ایسا آئی جی کسی قیمت پر نہیں چاہیے جو انکی مرضی کے مطابق تعیناتی اور تبادلے نہ کرے ۔ عمران خان ارکان اسمبلی کی خواہش کے آگے رکاوٹ نہ بن سکے اور ان کی موجودگی میں ہی آئی جی محمد طاہر کے فوری تبادلے کے احکامات جاری کردیے گئے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اے ڈی خواجہ کیس میں واضح طور پر تعیناتی کے مقررہ وقت کو پورا کیے بغیر تبادلوں پر پابندی لگا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے خالی نشستوں کے انتخابات بھی ہورہے ہیں اس کے دوران سرکاری ملازمین کی تعیناتی اور تبادلوں پر پابندی ہے۔پنجاب کے سیاستدانوں کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو ذہنی طور پر جاگیردارانہ سوچ اور انداز حکمرانی سے ابھی تک نجات حاصل نہیں کرسکے ۔ پاکپتن کے ڈی پی او کے شہرہ آفاق اسکینڈل کے وقت توقع تھی کہ حکمران جماعت اور اس کے ارکان اس سے سبق سیکھیں گے۔ ابھی آئی جی پنجاب کے غیر قانونی تبادلے کے احکامات کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں بیورو کریٹس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملکی انتظامیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،اپنے فرائض بلا خوف و خطر سرانجام دیں اس سلسلے میں انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو میری مکمل حمایت حاصل رہے گی۔دوسری طرف انکے ترجمان فواد چوہدری کہہ رہے تھے کہ آئی جی پنجاب کو حکومت کی طرف سے دی گئی ذمے داریوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے ۔ بادی النظر میں فواد چوہدری کی بات صحیح نظر آتی ہے کیونکہ غیر قانونی احکامات نہ ماننے والے افسر کو آج کے سیاسی معاشرے اور ماحول میں بالکل پسند نہیں کیا جاتا ۔ جہاں تک پولیس کا تعلق ہے دیانتدار اور قانون کی سختی کے ساتھ پابندی کرنے والے سرکاری ملازمین کو پاکستان کے کسی بھی صوبے کی انتظامیہ میں پسندیدگی  کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ ہمارے ارکان اسمبلی کو فواد چوہدری اور شیخ رشید کے پسندیدہ کردار ڈونکی کنگ جیسا آئی جی پولیس اور انتظامیہ چاہیے ۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے گذشتہ روز واشگاف الفاظ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی انقلابی پارٹی تھی ہے اور رہے گی ۔ تحریک انصاف کے قول و فعل کا تضاد اسکے پچاس دنوں کے طرز حکمرانی سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے بقول شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کہ

سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

تحریک انصاف قدرت سے تو نہیں لڑ سکتی یہی وجہ ہے کہ قومی ،سیاسی ،اقتصادی اور انتظامی معاملات میں اسکی سوچ و فکر میں لمحہ با لمحہ تبدلی ہوتی رہتی ہے اسی کو کہتے ہیں یوٹرن ۔ فی الوقت تو ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے کاسہ گدائی لے کر پی ٹی آئی کے ماہر ترین اقتصادی استاد اسد عمر کشکول لے کر کھڑے ہوچکے ہیں۔ گیس ،پیٹرول  اور پانی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ڈالر کی اونچی پرواز قابو سے باہر ہے۔اس کا خمیازہ ملک کے جاگیردار ،سرمایہ دار اور بدعنوان طبقے کو نہیں بلکہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ ضروریات زندگی کی اشیا عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں اگر ٹیکس عائد کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب کھلی ہوا میں سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد کردیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان کو حالات و واقعات کا بخوبی ادراک ہے وہ چاہتے ہیں کہ ملک کو صاف ستھرا اور سیاسی مفاد سے بالاتر نظام حکومت دیا جائے لیکن اس مقصد کے حصول میں انکی  میڈیا ٹیم کی ناقص کارکردگی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ سابقہ حکمرانوں کو کوسنے اور برائیوں کاذمے دار قرار دینے کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی کو عوامی مفاد کے تابع بنائیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top