تازہ ترین
پی سی بی کرکٹ کمیٹی، ایک نیا ڈرامہ

پی سی بی کرکٹ کمیٹی، ایک نیا ڈرامہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ کی بہتری کے لیے اوپنر محسن حسن خان کی چیئرمین شپ میں نیشنل کرکٹ کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی میں مایہ ناز آل راؤنڈر وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، مدثرنذر، ذاکرخان اور سابق ویمن کرکٹر عروج ممتاز شامل ہیں۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک میں کرکٹ کی بہتری، کھلاڑیوں کی کارکردگی پرنظررکھنا، ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر کرنے اور اچھے پلیئرز کی نشاندہی ہے۔ بظاہر یہ مقاصد خوش آئندہیں۔ لیکن دراصل یہ کمیٹی بااثر سابق کرکٹرز کی حمایت حاصل کرنے اورمستقبل میں تنقیدسے بچنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین محسن حسن خان 20 سال سے جسٹس قیوم رپورٹ میں جن کرکٹرز کی نشاندہی کی گئی تھی، ان کے خلاف سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ جس میں سرفہرست وسیم اکرم کی مخالفت میں ان کے بے شمار بیانات موجود ہیں۔ لیکن چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی معمولی سی وضاحت پر ان کے تمام اعتراضات ختم ہوگئے اور وہ وسیم اکرم کے ساتھ کام کرنے پررضامند بھی ہوگئے۔ احسان مانی اور سبحان احمد کے مطابق کمیٹی ممبران کو کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی۔ صرف معمولی الاؤنسز اور مراعات ملیں گی۔ اطلاعاً عرض ہے کہ یہ معمولی فیس فی اجلاس پچاس ہزار روپے اس کے ساتھ پانچ ہزار روپے ڈیلی الاؤ بھی ہوگا۔ ایئرٹکٹ ، فائیواسٹارہوٹل میں قیام اور ٹرانسپورٹ و غیرہ مراعات میں شامل ہوں گی۔ کمیٹی کو جب اور جہاں چاہے اجلاس طلب کرنے کااختیارحاصل ہوگا۔ صرف ممبران کی دستیابی ضروری ہوگی۔ کمیٹی سال میں کم ازکم تین مرتبہ سلیکٹرز اور اتنی ہی بار ٹیم انتظامیہ سے ملاقات کرے گی اور ان سے ٹیم کی کارکردگی ، کرپشن کی روک تھام، ناکامی کی وجوہ اور انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ قومی اور ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے سفارشات چیئرمین پی سی بی احسان مانی کو پیش کی جائیں گی۔ کمیٹی نے آگے جو کچھ کرنا ہے وہ توبعد کی بات ہے۔ لیکن کمیٹی کے سربراہ محسن خان کے ریمارکس پرہیڈ کوچ مکی آرتھر سخت ناراض ہیں۔ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ جب تک محسن خان معافی نہیں مانگیں گے۔ وہ ان سے ملاقات نہیں کریں گے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ کرکٹ کمیٹی کاقیام ان مختلف الخیال سابق اسٹارز کی حمایت حاصل کرنا اور وزیراعظم اور پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ عمران خان کے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کوختم کرنے کے ایجنڈے کو حقیقت بنانا ہے۔ عمران خان جب تک پی آئی اے سے کھیلتے رہے۔ انہیں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ لیکن پی آئی اے سے فارغ ہونے کے بعد سے وہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے پیچھے پڑگئے اورکاؤنٹی اور آسٹریلوی اسٹیٹ کرکٹ کو بہترین کرکٹ کہنا شروع کردیا۔اسی مقصد کے لیے وہ ریجنز کی ٹیموں کی تعداد بھی کم کرنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کاؤنٹی اور اسٹیٹ کرکٹ کے پاس جتنا بجٹ اور کھلاڑیوں کو جتنا معاوضہ ملتا ہے۔ وہ پی سی بی 10 سال میں بھی نہیں دے سکتی۔ آسٹریلیا کی چھ اسٹیٹ کے برعکس انگلش کاؤنٹیز کی تعداد بھی 18 ہے اور ان کی بی اور سی ٹیمیں بھی ہوتی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی مخالفت میں عمران خان نے ہمیشہ یہ حقیقت فراموش کردی کہ ساٹھ کے عشرے میں بنگلہ دیش، زمبابوے جیسی پاکستان کرکٹ کا عروج 1972 میں کاردار کے ڈیپارٹمنٹ کو ٹیم بنانے کی اجازت دینے کے بعد شروع ہوا جس کے بعد پاکستان نے ناصرف 28 سال بعد انگلینڈ کو ہرایا بلکہ انگلینڈ میں لگاتار پانچ سیریز جیتیں۔ آسٹریلیا کو آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز کو ویسٹ انڈیز اور بھارت کو بھارت میں بھی شکست اسی کے بعد دی جاسکی کیونکہ پاکستان چھوٹے شہروں اور دوردراز کے قصبوں کے بچے بھی کسی چھوٹے ادارے میں نوکری کے لیے محنت کرنے لگے اور نوکری ملنے پر اسے بچانے کی خاطر خوب سے خوب تر کی کوشش کرتے ہوئے نیشنل ٹیم تک پہنچ گئے اور پاکستان کو کبھی متبادل کھلاڑی کامسئلہ پیش نہیں آیا۔ معیشت کھیل پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 18 کاؤنٹیز، ان کی اے اور بی ٹیموں اور گریڈ کرکٹ کی ہر ٹیم میں چار غیرملکی کھلاڑیوں سے معاہدے کی اجازت 1980 کی دہائی میں ختم کرکے صرف ایک پلیئر کی شمولیت کی پابندی لگائی گئی۔ اس وقت انگلینڈ میں کھیلنے والے 200 غیرملکی کرکٹرز میں بیشتر کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہوتا تھا۔کیریبیئن جزائر کا کوئی بھی اچھا کھلاڑی انگلینڈ میں کھیلنے کی کوشش کرتا۔ ان میں کئی انگلش ٹیم کے لیے بھی کوالیفائی کرگئے۔ لیکن اس پابندی کا شکار بھی ویسٹ انڈین کرکٹر ہی ہوئے جن کا یہ راستہ بند ہونے کے بعد اب ویسٹ انڈیز کے بیشتر نوجوان امریکی باسکٹ بال میں شمولیت کے لیے اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور کبھی کالی آندھی کہلانے والی ٹیم کو اچھے کھلاڑی ملنے ہی بند ہوگئے۔ پاکستان میں بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کم ہونے سے بہتر پلیئرز ملنا کم ہوگئے ہیں۔اگرڈیپارٹمنٹل کرکٹ بالکل بند اور ریجنزکی تعداد بھی محدود کردی گئی توہماری کرکٹ کئی سال پیچھے چلی جائے گی اور کرکٹ کا حشربھی ہاکی جیساہوجائے گا۔ پی سی بی کرکٹ کمیٹی انہیں متنازع امور پرحمایت حاصل کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کی اہلیت اور کارکردگی کا اندازہ قیام کے 24 گھنٹے میں کمیٹی چیئرمین اورہیڈ کوچ کے تنازعہ سے کیا جاسکتا ہے۔

نعیم الرحمٰن ایک سینئر اسپورٹس جرنلسٹ ہیں۔ وہ اس وقت اب تک نیوز چینل میں اپنی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top