تازہ ترین
پہلے سو روز میں راستے کا تعین کردیا ہے، عمران خان

پہلے سو روز میں راستے کا تعین کردیا ہے، عمران خان

اسلام آباد: (29 نومبر 2018) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے سو روز میں راستے کا تعین کردیا ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے، کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

کنونشن سینٹر اسلام آباد میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے کسی نے پوچھا کہ سو روز ہو گئے کیا فرق نظر آیا؟ مجھے گھر میں ٹی وی دیکھ کر غصہ چڑھتا ہے تو بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ آپ وزیراعظم ہیں۔ میں بائیس سال اپوزیشن میں رہا تو بتانا پڑتا ہے کہ اب میں وزیراعظم ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اس کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو دیتا ہوں کیونکہ میں نے ان دنوں میں صرف ایک چھٹی کی۔ میری اہلیہ نے مشکل وقت میں بڑا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں اور انسانوں کے معاشرے میں دو چیزوں کا فرق ہوتا ہے۔ جانوروں میں طاقتور کھاتا ہے اور کمزور مر جاتا ہے، لیکن انسانوں کے معاشرے میں رحم اور انصاف ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ بائیس سال سے کرپشن پر قابو پانے کا وعدہ کر رہا تھا۔ امیر اور غریب کے فرق کی وجہ ہی کرپشن ہے۔ جن ممالک میں خوشحالی وہاں کرپشن نہیں ہے۔ سو دن کے اندر ہماری پالیسی کا مقصد عام آدمی کی مدد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ دنیا کے عظیم ترین لیڈر تھے۔ مدینہ کی ریاست میں ساری پالیسی غربت کے حل کیلئے بنائی۔ مدینہ کی ریاست میں ساری پالیسیاں کمزور طبقے کیلئے بنائی گئی تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہوتی ہے۔ انسان کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب نماز پڑھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ سے راستہ مانگتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے انسان اوپر جاتا ہے، اس لیے تعلیم کے حوالے سے پالیسی پر بڑا کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک کرنے کیلئے ٹاسک فورس بنائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم تعلیم پر ایک پورا پلان لا رہے ہیں۔ اس وقت تعلیم کے میدان میں ہم نے تین مختلف طبقے بنائے ہوئے ہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے نیب ہمارے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ادارہ ہے۔ نیب میں ایک چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی نہیں کروایا۔ جو نیب کرتا ہے ہم ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ نیب اگر احتساب نہیں کرے گا اور اتنا بڑا جال بچھا دے گا تو سزائیں کیسے ہوں گی؟ نیب کا سارا انحصار پلی بارگین پر ہوتا ہے۔ میرے خیال میں نیب اس سے بہتر پرفارم کر سکتا ہے۔ جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ساری اپوزیشن کو نہیں کہہ رہا، میں صرف ان کو کہہ رہا ہوں جو گلہ پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے پیسہ بنانے اور اپنی چوری چھپانے کیلئے ادارے تباہ کیے۔ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ کتنا پیسہ چوری ہوا؟ مجھے بھی نہیں پتا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوئے۔ میں اگر نیب میں اپنا بندہ بٹھاؤں گا تو وہ بڑے چوروں کو نہیں پکڑے گا۔ ایف بی آر کو جب میں تباہ کروں گا تو وہ پیسا اکھٹا نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار وسائل سے نوازا لیکن کرپشن کی وجہ سے ہم دنیا میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خطے میں امن ہماری ضرورت ہے، شاہ محمود قریشی

ہم نے سو روز میں ماہانہ بیرونی خسارہ نصف کردیا، اسد عمر

 

Comments are closed.

Scroll To Top